جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام کرنے سے روک دیا

نعیم بخاری کو بطور چیئرمین

اسلام آباد : عدالت نے حکم میں کہا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے تک نعیم بخاری بطور چیئرمین پی ٹی وی امور انجام نہیں دے سکتے۔

چئیرمین پی ٹی وی نعیم بخاری کی تعیناتی کے خلاف کیس پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

دوران سماعت عدالت نے کہا کہ سپریم کا فیصلہ موجود ہے، اپر لمٹ کی ریلیکسیشن کی وجہ دینا بھی ضروری ہے، کیا آپ نے زائد عمر سے متعلق ریلیکیشن دی؟

یہ بھی پڑھیں : نعیم بخاری کی تقرری : کابینہ ڈویژن عمر کی ریلیکسیشن نہیں دے سکتی : اسلام آباد ہائیکورٹ

وزارت اطلاعات و نشریات کی 13 نومبر کی سمری عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ آپ نے سمری بھیجتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا تھا، عطاء الحق قاسمی کیس میں جو غلطیاں تھیں، آپ نے وہی یہاں کیں ہیں۔ سمری آپ نے بھیجتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پورشن نہیں پڑھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نہ کابینہ نے واضع طور پر عمر کی ریلیکسشن کا کوئی فیصلہ کیا نہ آپ نے صحیح سمری بھیجی۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں نعیم بخاری صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ ہم یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیج رہے ہیں وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر اس کو دیکھیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے تک نعیم بخاری بطور چیئرمین پی ٹی وی امور انجام نہیں دے سکتے۔ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں