جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیب مقدمات کے 24 انڈر ٹرائل ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

24 انڈر ٹرائل

اسلام آباد : کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب مقدمات کے 24 انڈر ٹرائل ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے کورونا کے باعث 24 انڈر ٹرائل ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔

نیب کی جانب سے ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کی مخالفت کی گئی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب حسن اکبر نے کہا قیدیوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ کرایا جائے اور متاثرہ ملزمان کو رہا کر دیا جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا آپ انڈر ٹرائل ملزمان کو جیل میں قید کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ٹیسٹ پازیٹو آنے تک باقی قیدیوں میں بھی وباء پھیل گئی تو ذمہ دار کون ہو گا؟ آپ کو معلوم ہے کہ جیل کی ایک بیرک میں کتنے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں : کیمپ جیل لاہور کے قیدی میں کورونا وائرس کی تصدیق

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے تفتیشی افسر کو اڈیالہ جیل کی بیرک میں تفتیش کرنے کے احکامات جاری کر دیتے ہیں، یہ غیر معمولی حالات ہیں اور غیر معمولی فیصلے کرنے ہوں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے انڈر ٹرائل ملزمان جرم ثابت ہونے پر سزا ملنے تک بے گناہ تصور ہوتے ہیں، آپ اچھی پراسیکیوشن کے بعد ملزمان کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوائیں، ان جرائم میں جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید ہے، سزائے موت نہیں، بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت اپنا کام نہیں کر رہی، ان کا کام بھی عدالتوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں