جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں

اسلام آباد : عدالت نے آئی جی، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج روکنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ پی ٹی آئی کے عامر کیانی کی درخواست پر بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کورٹ نے 2014 کا آرڈر دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور ایس ایس پی پر تشدد کیا گیا۔ یہ کورٹ نہیں کہہ رہی کہ آپ کی پولیٹیکل پارٹی نے ایسا کیا، مگر کیا اس واقعہ سے انکار کیا جا سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد نہ آنے دینے کا فیصلہ ہوا تو ان کو گھر سے نہیں نکلنے دونگا: وزیر داخلہ

عدالت نے کہا کہ جب کورٹ ایک آرڈر پاس کرے اور اس کے بعد ایسا واقعہ ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ ایس ایس پی رینک کے سینئر افسر کے ساتھ جو ہوا تھا، اس میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ دو ہزار انیس کے دھرنے والے کیس کا متعلقہ پورشن آپ پڑھ لیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اس کورٹ کے دائرہ کار سے گرفتاریوں کو روکا جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے 25 مئی کو ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ یقینی بنائیں کہ غیر ضروری طور پر کسی کو ہراساں نہ کیا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 27 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں