جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

سی اے اے کے ڈی جی کا عہدہ 2 سال سے کیوں خالی ہے؟ عدالت نے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرلی

کے ڈی جی

اسلام آباد : عدالت نے 2 سال سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی کی عدم تعیناتی پر وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں برطرف پائلٹ سید ثقلین اختر کا لائسنس منسوخی اور ملازمت سے برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کو سنا۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کتنے عرصے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی کا عہدہ خالی ہے؟ سی اے اے کے وکیل نے بتایا کہ 2 سال سے ڈی جی کا عہدہ خالی ہے، محکمے نے اشتہار جاری کیا ہے مگر ابھی تک کوئی تقرری نہیں ہوسکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سول ایوی ایشن اتھارٹی میں پہلی بار ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریگولیٹری کا چارج ریگولر افسر کے سپرد

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست ایسے نہیں چلتی ہے، قومی ائیر لائن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، صرف عدالتوں پر الزام لگایا جاتا ہے۔ کیا حساس معاملے کو ایسے ڈیل کرتے ہیں؟

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 14 جولائی کو ائیرلائن ٹرانسپورٹ لائسنس منسوخ کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی، ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کا عہدہ اہم ہے۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ 2 سال سے ایوی ایشن کے ڈی جی کا عہدے پر تعیناتی عمل میں کیوں نہیں لائی۔ سب سے اہم عہدے کا اضافی چارچ سیکرٹری سول ایوی ایشن کو دے دیا گیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت ہائیکورٹ میں تحریری وضاحت جمع کرائے۔ کیس کی سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں