اسرائیل لبنان سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف، بحران مزید سنگین

مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔

اسرائیل لبنان پر نئی جنگ مسلط کرنے کے موڈ میں ہے۔شبعا فارمز اور لبنان کی بحری حدود پر اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے۔

جبکہ لبنان کی جغرافیائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کا سلسلہ بھی عروج پر ہے۔

کیونکہ اسرائیل لبنان کے خلاف نئی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے جاسوس ڈرون طیارے نے لبنان کے علاقے ارقوب اور حسبیہ پر بدھ کے روز غیر قانونی پرواز کی۔

منگل کے روز دو ڈرون طیاروں نے جنوبی قصبے عدیسہ پر نچلی پروازیں کیں۔اس سے قبل راس نقورہ میں اسرائیل کی گن بوٹ نے لبنانی بحری حدود کی خلاف ورزی کی۔

وہاں اس نے سونک بم بھی پھینکا۔ لبنان کے علاقے عباسیہ میں بھی دو اسرائیلی فوجی گھس آئے تھے۔

ماہ رواں میں اسرائیل نے لبنانی حدود میں شیلنگ بھی کی اور مختلف علاقوں میں جاسوس بالون بھی فضاء میں چھوڑے۔

لبنان کے سرکاری ذرایع ابلاغ میں اسرائیل اور اسرائیلی افواج کے ساتھ لفظ دشمن بھی استعمال کرتے ہیں۔

لبنان کے بعض علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے جبکہ لبنان کی بحری حدود میں گیس و تیل کے قدرتی ذخائر پر بھی اسرائیل نے قبضہ کررکھا ہے۔

لبنان کی مسلح افواج اور اقوام متحدہ کی بین الاقوامی فورسز کی موجودگی کے باوجود اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں۔

لبنان کی منتخب پارلیمانی جماعت اور مخلوط حکومت میں شامل اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل کے ڈرون طیاروں کو لبنان کی حدود میں مار گرایا جس پر اسرائیل تلملا رہا ہے۔

امریکی معاون وزیر خارجہ برائے مشرق قریب ڈیوڈ شینکر نے اسرائیل اور لبنان کے مابین ثالثی کے لئے بیروت کا دورہ کیا۔

لبنانی اور عرب حلقوں میں امریکی سفارتکار اسرائیل کے کٹر حامی سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی جمعرات کو ایک رپورٹ میں موجودہ خطرناک صورتحال کو جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔