جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 فلسطینی جاں بحق

اسرائیلی

اسرائیل کی فوج نے فلسطین کی غزہ پٹی کی سرحد سے ملحق علاقوں میں فائرنگ کرکے کم از کم 3 شہریوں کو جاں بحق اور متعدد کو زخمی کردیا۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ان کے سپاہیوں نے سرحدی باڑ کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 فسلطینیوں کو قتل کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ سپاہیوں نے مبینہ طور پر باڑ عبور کرنے والے تین افراد پر فائرنگ کی جبکہ مشتبہ افراد نے گرینیڈ اور دھماکا خیز مواد سے سپاہیوں پر حملہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہونے والی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

غزہ کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا جہاں حماس برسراقتدار ہے۔

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے قبل حماس کے سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جانب سے اڑائے گئے غبارےاسرائیل کے لیے یہ اشارہ تھا کہ وہ غزہ کے محاصرے کو نرم کرنے کے غیر اعلانیہ منصوبے کو تیز کریں۔

ایمیزون کمپنی کے سربراہ کا فون ہیک، سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے کا انکشاف

حماس کے عہدیدار خلیل الحیا نے اس حوالے سے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اس عمل میں سستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور یہ غبارے بھی ناراض افراد اڑا رہے ہیں جس سے حماس کا تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ غبارے اڑانے عمل سے مطمئن ہے اور اگر قابض اسرائیل نے اس سے کوئی پیغام نہیں لیا تو مزید بھیجنے کو تیار ہیں۔

یاد رہے کہ حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مصر اور اسرائیل نے رابطہ منقطع کر رکھا ہے جہاں 2007 سے حماس برسر اقتدار ہے۔

خلیل الحیا کا کہنا تھا کہ حماس کو توقع ہے کہ اسرائیل طبی حوالے سے مصنوعات اور غزہ کو دنیا کے دیگر ممالک سے تجارت کی اجازت دے گا، روزگار میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی اور غریب افراد کے لیے قطری امداد میں توسیع کی اجازت دے گا۔

یاد رہے کہ حماس نے مارچ 2018 میں سرحدی باڑ کے قریب ہفتہ وار احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ علاقے خالی کرنے اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ان مظاہروں کے دوران کم از کم 348 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں