جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسرائیلی الیکشن، نیتن یاہو سیاسی زندگی و موت کے درمیان معلق

فلسطین کی غاصب ریاست اسرائیل میں پانچ ماہ کے دوران دوسری مرتبہ انتخابات ہورہے ہیں۔

شدید سیاسی بحران میں گھرے اسرائیل کی 120 نشستوں پر مشتمل کنیسیٹ میں دس جماعتوں اور اتحاد کے امیدواروں کی نمائندگی کا امکان ہے۔

لیکوڈپارٹی کے بن یامین نیتن یاہو سیاسی زندگی اور موت کے درمیان معلق ہیں اور خود اسرائیل کا اپنا وجود غیر یقینی کا شکار ہے۔

بینی گنٹز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے لیکوڈ کا کانٹے کے مقابلے کا امکان ہے۔

مزید پڑھئیے: ٹرمپ بھی اسرائیل کا حاکم بن جائے فرق نہیں پڑتا، فلسطینیوں کا ردعمل

اصل مقابلہ نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت اور سابق جنرل بینی گنٹز کی بلیو اینڈ وائٹ جماعت کے مابین ہی ہے لیکن سب سے زیادہ اہم پلیٹ فارم مشترکہ فہرست ہے جو عرب امیدواروں پر مشتمل ہے۔

کیونکہ، نیتن یاہو کی عرب دشمن پالیسی کی وجہ سے انتخابی ماحول میں کشیدگی محسوس کی جارہی ہے۔

نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت نے عرب علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز پر کیمرہ لگانے کی مہم بھی چلائی۔

دیگر اہم جماعتوں میں آئییلیٹ شیکڈ کی یمینا پارٹی اور ایوگ ڈور لیبرمین کی یسرائیل بیٹینیو پارٹی بھی شامل۔

اشکینازی اور آرتھوڈوکس یہودیوں کا اتحاد متحدہ توراتی یہودیت اور مزراہی کٹر یہودی جماعت شازبھی میدان میں ہیں۔

ایمیر پیریٹز کا لیبر جیشراتحاد، ایہود بارک کی ڈیموکریٹک یونین، فار رائٹ کی جیوش پاور، الٹرا آرتھوڈوکس زایونسٹ پارٹی نوآم بھی انتخابی معرکے کے لئے بے چین ہیں۔

پانچ ماہ قبل اپریل میں الیکشن ہوئے۔

لیکوڈ اور بلیو اینڈ وائٹ جماعتوں نے پینتیس نشستیں حاصل کیں۔

ایک سو بیس کے ایوان میں اکسٹھ اراکین کی حمایت سے وزیر اعظم بنا جاسکتا ہے۔

نیتن یاہو کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی مگر وہ ناکام رہے۔

قبل اسکے کہ صدر دوسری جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے، نیتن یاہو نے نئے انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔

نیتن یاہو پہلی مرتبہ انیس سو چھیانوے، دوسری مرتبہ دو ہزار نو، تیسری مرتبہ دو ہزار تیرہ اور چوتھی مرتبہ دوہزار پندرہ میں وزیر اعظم بنے۔

وہ طویل ترین مدت تک فلسطین کی غاصب ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ نہ صرف ان پر بدعنوانی کے تین مقدمات کی تلوار لٹک رہی ہے بلکہ انکی سیاسی زندگی سیاسی موت میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ انکی جیت سے خطے میں امن کا امکان ختم ہوکر رہ جائے گا کیونکہ انکی نسل پرست یہودی ریاست اسرائیل کو فلسطینی قبول نہیں کرتے اور انٹرنیشنل لاء میں بھی نسل پرستی ممنوع قرار دی جاچکی ہے۔

(جی ٹی وی شعبہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ)

Sources

متعلقہ خبریں