جاپان کی نئی ویزہ پالیسی متعارف

اسلام آباد: جاپان نے محنت کشوں کے لٸے نٸی ویزہ پالیسی متعارف کروا دی۔ جاپان نے افرادی قوت میں کمی کے باعث نٸی ویزہ پالیسی جاری کی ہے۔ آٸندہ 5 برسوں میں ویزوں کی تعداد بڑھا کر3 لاکھ 45 ہزار تک کر دی جاٸے گی۔

تفصیلات کے مطابق جاپان نے افرادی قوت میں کمی کے باعث نٸی ویزہ پالیسی جاری کی ہے۔ لاکھوں بلیو کالر ملقزمین کی تلاش میں نئے قوانین 1 اپریل سے نافذ العمل ہو چکے ہیں۔

جاپان کی جانب سے متعارف کروائی گئی ویزہ پالیسی کے2 حصے ہیں۔ دونوں ویزہ قواٸد میں درخواست گذاروں کا کسی جاپانی کمپنی کا سپانسر لیڈر ہونا ضر وری ہے۔

درخواست گذاروں کو متعدد امتحانات سمیت جاپانی زبان کا امتحان پاس کرنا ہو گا۔

پہلی قسم کے ویزے ان پاکستانیوں کے لٸے ہیں جو فوڈ سروز، صفاٸی ستھراٸی، تعمیرات ماہی گیری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ویزے محدود مہارت رکھنے والوں کے لٸے ہیں۔

پہلی قسم کے ویزوں کی مدت 5 سال تک ہو گی جس میں تجدید بھی ممکن ہو گی۔ پہلی قسم کے ملازمین اپنے اہل خانہ کو ساتھ بلانے کے اہل نہ ہوں گے۔

جبکہ دوسری قسم کا ویزہ ہنر مند افراد کو دیا جاٸے گا۔ ہنر مند افراد مخصوص معیار پر پورا اترنے کے بعد اپنے اہل خانہ کو جاپان بلا سکیں گے۔

جاپانی ماہرین کا کہنا ہے جاپان کو فوری ہنر مند افراد کے ضرورت ہے۔ جو جاپانی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ پہلے برس جاپان کی جانب سے 47 ہزار ویزے جاری کٸے جاٸیں گے۔

آٸندہ 5 برسوں میں ویزوں کی تعداد بڑھا کر 3 لاکھ 45 ہزار تک کر دی جاٸے گی۔