ایشیاء کی دوسری بڑی مرچ منڈی جھڈو، شہریوں کے لیئے بیماری بن گئی

جھڈو

جھڈو : ایشیاء کی دوسری بڑی مرچ منڈی جھڈو حکومت کی مجرمانہ غفلت سے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی، مرچ کے تاجر منڈی میں سہولتوں کی کمی کے باعث کاروبار شہر میں لے آئے، جس کے باعث شہریوں کئی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔

جھڈو شہر زراعت کی تجارت کے اعتبار سے سندھ میں ایک خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ جھڈو کے آس پاس کے علاقوں میں مختلف مصالحہ جات میں استعمال ہونے والی سرخ مرچ کی ریکارڈ کاشت کی جاتی ہے۔

جھڈو مرچ منڈی کو کنری کے بعد سرخ مرچ کی پیداوار کے اعتبار سے ایشیاء کی دوسری منڈی کا درجہ بھی حاصل ہے، سرخ مرچ کے فروغ اور پیداواری صلاحیت کو مدنظر کرتے ہوئے 90 کی دہائی میں ساڑھے چھ لاکھ روپے لاگت سے دو مرحلوں میں چار دیواری وسیع میدان کینٹین پینے کے پانی ٹنکیاں ور 24 دکانیں تعمیر کروائیں گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : شہر قائد کی پہچان بنانے والی تاریخی عمارتیں

جس کا مقصد سرخ منڈی کے تاجروں کو بہتر انداز میں کاروبار کرنے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ لیکن ٹاؤن کمیٹی جھڈو چیئرمینز اور ایڈمنسٹریٹرز کی گزشتہ دس سالوں سے عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے دکانوں کی تعمیر و مرمت مختلف اوقات میں نہ ہونے سے دکانوں کی چھتوں کے پلستر اور چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ شٹرز اور اسٹیل بھی چوری ہوگیا ہے۔

بلدیہ کے چھ چوکیدار بھی عرصہ دراز سے غائب ہیں اور گھر بیٹھے تخواہیں وصول کررہے ہیں، دوسری جانب مرچ منڈی میں پانی بجلی اور دکانیں کھنڈرات میں تبدیل ہونے کے بعد غلہ منڈی یونین جھڈو کے تاجروں نے اپنی دکانیں شہر کی مرکزی شاہراہ اور گنجان آبادی کے علاقوں میں شفٹ کرلی ہیں۔

تاجروں نے دکانوں کے سامنے ہی مرچ کے ڈھیر لگانے شروع کردیئے ہیں، ٹرکوں کی لوڈ اور اپ لوڈ سڑک کے کنارے کررہے ہیں، جس کی وجہ سے آبادی اور سڑک پر سفر کرنے والوں کو ڈھیروں سے اٹھنے والی دھول سے سخت اذیت میں مبتلا ہورہے ہیں۔

شہری آبادی کے مرد، خواتین اور بچے کھانسی نزلہ زکام اور جلدی بیماریوں اور الرجی کے مرض کا شکار ہو رہے ہیں، جس کے باعث علاقہ مکینوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔

جھڈو کے سماجی سیاسی مذہبی و عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے استدعا کی ہے کہ پوش علاقوں میں قائم مرچ کے تاجروں کو مرچ منڈی میں منتقل کیا جائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔