جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

شیر کی کھال پہننے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا، نواز شریف بننے کی کوشش نہ کریں

بننے کی

اسلام آباد : مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان جادو ٹونہ کے ذریعے ملک کو چلا رہے ہیں۔ جنات تقرریاں کرتے ہوں تو اداروں کا تماشہ بننے پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ نوکری، چاکری کرنے والے کو صرف یہی کرنا چاہیے، نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن نے میری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست لکھی ہے، میں اپنے اس ہمدرد کو نیب میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ کون ہے۔ درخواست کو دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے بچے ڈر رہے ہیں۔ اگر درخواست مجھے ڈرانے کے لیئے ہے تو آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ نہ گرفتاری سے ڈرتی ہوں، نہ جعلی مقدمے سے اور نہ نیب سے ڈرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ڈرانے والے بھول میں ہیں۔ مجھے گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری ضمانت کینسل کریں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ آپ سچ سے کتنا ڈرتے ہیں۔ سچ کو ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون جو منتخب اور آئینی وزیراعظم کو اختیارات دیتا ہے اور جو آئینی حقوق حاصل ہیں، اس میں دو رائے نہیں ہے۔ عمران خان آئینی وزیراعظم ہیں نہ منتخب، وہ ایک ایسے شخص ہیں جو نواز شریف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر وزیر اعظم کی کرسی پر قابض ہیں، وہ سلیکٹڈ ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے، نہ عوام کا ووٹ ہے اور نہ اخلاقی اور آئینی حیثیت ہے۔ عمران خان جادو ٹونہ کے ذریعے ملک کو چلا رہے ہیں۔ جو شخص پاکستان کی سلامتی سے تعلق رکھنے والی اہم ترین تقرریاں جادو ٹونہ کے ذریعے کرتا ہو۔ بجائے وزیراعظم کے جنات تقرریاں اور ٹائمنگ طے کرتے ہوں وہاں اداروں کا تماشہ بننے پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : نوٹیفکیشن کے معاملے کو غلط رنگ نہ دیا جائے، سب ایک پیج پر ہیں : وزیراعظم

ن لیگ کی رہنماء کا کہنا تھا کہ جنتر منتر صرف اہم تقرریوں کے لیئے کیوں استعمال ہوتے ہیں؟ جادو ٹونا اتنا کامیاب ہے تو عوام کی بھلائی کے لیئے کیوں نہیں استعمال ہوتا؟ پیٹرول اور آٹا سستا کرنے کے لیئے کیوں استعمال نہیں کرتے؟ یہ صرف اپنے اقتدار کو چند دن اور مہلت دینے کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورا ملک بند ہے، اداروں اور ملک کا تماشہ بن گیا، وہ اس لیئے کہ ایک شخص کو بچانا ہے جو آپ کی حکومت چلاتا ہے، وہ آپ کے مخالفین کو اکھاڑ پچھاڑ کرتا ہے۔ کیا آپ نے قوم کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ آج آپ کو ووٹ کو عزت دو یاد آگیا ہے تو بتا دوں کہ آپ کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

ووٹ کو عزت دو کی خاطر جیل کاٹنی پڑتی ہے، جلا وطن ہونا پڑتا ہے۔ اٹک قلعہ میں جانا پڑتا ہے۔ جھوٹے کیسز اور جھوٹی سزائیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی پہچان کیا ہے؟ ان کا سیاسی تعارف ہے منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنا، منتخب وزیراعظم کے خلاف 126 دن کا دھرنا دینا، نواز شریف کا مینڈٹ چھیننا، ووٹ کی حرمت کو پاؤں تلے کچل کر آنا ہے، آپ کا جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ شیر کی کھال پہننے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا۔

رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں سیاسی شہید بن جائیں گے یہ نہیں ہوگا۔ بڑے بڑے کرپشن اسکینڈلز اور نااہلی کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ کو پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کا جواب دینا پڑے گا۔ پچھلے 4 سال میں عوام پر جو مظالم ڈھائے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ تاریخی قرضوں کے باوجود پاکستان میں ایک اینٹ نہ لگانے کا جواب دینا پڑے گا۔ اس بدترین کو چھپانے کے لیئے نواز شریف کی تقلید میں کوئی نعرہ لگانے چاہتے ہیں تو ایسا نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ مسلم لیگ ن کی جدوجہد نہ صرف عمران خان جیسے شخص کے خلاف ہے،

بلکہ اس لیئے بھی ہے کہ آئندہ کوئی شخص بھی عمران خان کی طرح مہرہ بن کر سامنے نہ آئے، عوام کو ہمیشہ نجات ملے۔ نوکری، چاکری کرنے والے کو صرف یہی کرنا چاہیے، نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جب کیس اوپن ہوگا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ جائے گا۔ اگر اپنا مؤقف دینے کے لیئے دوسری درخواست دائر کرنی پڑی تو وہ بھی کروں گی۔

متعلقہ خبریں