سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعتراضات

سپریم جوڈیشل کونسل

اسلام آباد : سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراضات عدالت عظمی میں جمع کرا دیئے۔ اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ کونسل کا جواب اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کرانا درست نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراضات عدالت عظمی میں جمع کرادیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ججز، صدر، وزیراعظم اور افواج پاکستان پر آئین کی پاسداری لازم ہے : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراضات میں مؤقف اپنایا ہے کہ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کا جواب جمع کرانا خلاف ورزی ہے۔ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کی اجازت کا ریکارڈ موجود نہیں۔ اٹارنی جنرل صرف وفاقی حکومت کو قانونی معاملات میں مشورے دینے کا پابند ہے نہ کہ وہ نجی پریکٹس کرے۔

اعتراض کے مطابق سپریم کورٹ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو دائرہ اختیار سے باہر جانے پر ان کے خلاف متعلقہ اداروں کو کاروائی کا حکم دے چکی ہے۔ کونسل کو اختیار حاصل نہیں تھا کہ اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کی ذمہ داری دیتی۔ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کو اپنا وکیل تفویض کرنا آئین کی شق 100 کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان فیڈرل گورنمنٹ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو کسی ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے تھا، جس کے لیئے وفاقی حکومت نے انہیں مختص نہیں کیا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات پر کونسل اور سیکریٹری کی جانب سے مناسب جواب نہ آنے کی صورت میں الزامات کو تسلیم شدہ تصور کئے جائیں۔