جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

جے یو آئی ایف نے ایک بار پھر حکومت مخالف تحریک پر غور

ایک بار پھر

اسلام آباد : جے یو آئی ایف نے ایک بار پھر حکومت مخالف تحریک پر غور شروع کردیا۔ اس سلسلے میں صوبائی تنظیموں سے مشاورتی عمل بھی جاری ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف تحریک کے لیئے سندھ اور پنجاب کی تنظیموں سے مشاورت مکمل کرلی ہے، جبکہ جلد خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی تنظیموں سے مشاورت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق جے یو آئی رواں ماہ کے آخر میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں کا پلان مرتب کررہی ہے۔ فروری اور مارچ تک مختلف اضلاع میں مظاہروں کے بعد ایک مرتبہ پھر اپریل یا مئی میں بڑی احتجاجی تحریک کا پلان مرتب کیا جارہا ہے۔  

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن، حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے، خود اپنا ہی لے ڈوبے : مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمان بڑی اپوزیشن جماعتوں سے نالاں ہیں، ان سے مشاورت کے بھی فی الوقت قائل نہیں۔ اس بار مولانا سیاسی کے ساتھ مذہبی ایشوز کو عوامی مہم کا حصہ بنائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان تمام مسالک کے جید علماء کرام کے ساتھ لاہور اور کراچی میں ملاقات کرچکے ہیں، جس میں مفتی منیب الرحمان، قاضی نیاز نقوی، قاری حنیف جالندھری اور علامہ افضل حیدری سمیت دیگر شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمان اور جید علماء سے ملاقاتوں میں مفتی منیب الرحمان نے اہم کردار ادا کیا، انہیں مدارس اور حکومت کے درمیان اصلاحاتی پیکج پر تحفظات ہیں۔

مولانا نے اصلاحات کے نام پر مدارس کی آزادی سلب ہونے کے خدشات سے مذہبی رہنماؤں کو آگاہ کردیا۔ اتحاد تنظیمات المدارس کے رہنماؤں نے مولانا کے بعض خدشات سے اتفاق کیا ہے۔

مولانا اپنی ممکنہ احتجاجی تحریک میں اس مسئلے کو بھرپور شدومد سے اٹھائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی وفد کی چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں مولانا نے شدید خفگی کا اظہار بھی کیا تھا۔

مولانا نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی فاصلہ اختیار کرلیا۔ جب تک اب بڑی جماعتیں خود مولانا کے تحفظات دور نہیں کریں گی، جے یو آئی ف ازخود رابطے نہیں بڑھائے گی۔

جے یو ایف کے پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے اپوزیشن کی جنگ لڑی مگر بڑی اپوزیشن جماعتیں بیچ میدان چھوڑ کر گئیں۔ ہم اب بھی مشترک اپوزیشن کے خواہاں ہیں، البتہ اپنے نظریات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

متعلقہ خبریں