جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت، درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سردار طارق نے سماعت سے معذرت کرلی۔

سپریم کورٹ میں جوڈیشل کونسل کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے موقع پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ منیر اے ملک صاحب جسٹس صاحب کے وکیل کی حثیت سے آئے ہے. ہم آپ کے آنے سے بہت خوش ہیں. آپ بڑے فاضل وکیل ہیں.

یہ بھی پڑھیں : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نئے عدالتی سال میں مقدمات کی سماعت شروع کریں گے

وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ چیف جسٹس نے عدالتی سال 2018 کے آغاز کی تقریب پر خطاب کیا. چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب کا عمل غیر متوازن اور پولیٹکل انجئنرنگ کا تاثر مل رہا ہے. احتساب کا عمل جوڈیشل انجئنرنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ بنچ کے 2 ممبران جسٹس فائز عیسی کی برطرفی پر چیف جسٹس بنیں گے، دونوں ججز کا ذاتی مفاد کیس میں شامل ہے، دونوں ججز کیس کی سماعت کیلئے اہل نہیں۔

وکیل منیر ملک نے کہا کہ میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدلیہ کا تشخص خراب نہیں ہونا چاہیے. عدلیہ کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کردیں گے۔ ہم اہل ججز کی فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران فل بینچ کا حصہ نہ ہوں۔ کوئی بھی ایسا جج جس کا ذاتی مفاد اس کیس سے نہ جڑا ہو۔ جن ججز کے مفادات اس سے جڑے ہیں وہ اس بینچ کا حصہ نہ ہوں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کون سا جج متعصب ہوسکتا ہے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی بھی جج متعصب ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ میں یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ اس عدالت کا کوئی بھی جج متعصب نہیں ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ عدلیہ پر اگر اعتماد نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا۔ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے۔

سماعت میں وقفہ لیا گیا، وقفے کے بعد جسٹس فائزعیسیٰ کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سردار طارق نے سماعت سے معذرت کرلی۔

عدالت نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔ جسٹس عمرعطاء نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سے گزارش کرینگے کہ نیا بینچ جلد تشکیل دیا جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ چیف جسٹس کو واپس بھجوا رہے ہیں۔ چیف جسٹس سے درخواست کریں گہ کہ معاملہ جلد سماعت کے لیے مقرر کریں۔ کچھ ججز بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔

جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بنچ میں نہیں بیٹھنا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھی جج کی طرف سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔

متعلقہ خبریں