جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کراچی 10 سال بعد ون ڈے انٹریشنل میچ کی میزبانی کیلئے تیار

سال

کراچی : پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا آج سے آغاز ہو رہا ہے اور کراچی 10 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میچ کی میزبانی کرے گا۔

مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے اور اس کے بعد پاکستان کو اپنی تمام انٹرنیشنل سیریز بیرون ملک کھیلنی پڑی تھیں۔

اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی بھی کھلاڑی ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن حملے کے نتیجے میں متعدد کھلاڑی اور میچ آفیشلز زخمی ہو گئے تھے جبکہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 8 جوان شہید بھی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : قومی ٹیم دفاعی سوچ سے باہر نکل کر نڈر انداز سے بے خوف کرکٹ کھیلے : رمیز راجہ

اس جمود کا پہلی مرتبہ خاتمہ اس وقت ہوا تھا جب 2015 میں زمبابوے کی ٹیم نے تین میچوں کی سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یہ تمام میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے۔

اس کے بعد پاکستان سپر لیگ کے میچز کے کامیاب انعقاد کی بدولت 2017 میں ورلڈ الیون کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جبکہ اُسی سال ایک ٹی20 میچ کے لیے سری لنکن ٹیم بھی پاکستان آئی تھی۔

2018  میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی تین ٹی20 میچز کے لیے کامیابی سے میزبانی کی جس سے ایک مرتبہ پھر دنیا کو مثبت پیغام گیا۔

پاکستان ابتدائی طور پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ کا ملک میں انعقاد کا خواہاں تھا، تاہم بعدازاں دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز نے ون ڈے اور ٹی20 سیریز کے پاکستان میں انعقاد پر رضامندی ظاہر کی۔

تاہم پاکستان کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب 10 سینئر اور اہم سری لنکن کھلاڑیوں نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا جبکہ سری لنکن ٹیم کو دورہ پاکستان کی صورت میں دہشت گرد حملے کی دھمکی موصول ہوئی جس سے یہ دورہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

بعدازاں حکومت پاکستان نے سری لنکا کو فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی جس پر سری لنکن حکومت نے ٹیم پاکستان بھیجنے کی منظوری دے دی۔

پاکستان نے میچز کے لیے بہترین سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں اور ٹیم کے ہوٹل اور اسٹیڈیم کے درمیان ساڑھے 4 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جبکہ صرف اسٹیڈیم کے احاطے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد فوجی اہلکار اور پولیس کے جوان ڈیوٹی پر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں