جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

کراچی میں نہ پانی ہے نہ ملازمت ہے، ہم فلسطینی عوام سے بھی زیادہ بدقسمت ہیں: مصطفیٰ کمال

نہ پانی ہے

کراچی: مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ کراچی کا امن تہہ و بالا ہوسکتا ہے، کراچی میں لاوا پک رہا ہے، نہ پانی ہے نہ ملازمت ہے، ہم فلسطینی عوام سے بھی زیادہ بدقسمت ہیں۔

چیئرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے تعصب اور نسل پرستی کی انتہاء ہوچکی ہے، 14 برسوں سے پیپلزپارٹی سندھ حکومت میں ہے، 14 برسوں سے کراچی میں پانی کا ایک قطرہ کا اضافہ نہیں کیا۔ پہلے سے موجود پانی کو ٹینکر کے ذریعے کراچی کے شہریوں کو فروخت کیا جارہا ہے، ٹرانسپورٹ کے لئے ایک بس کا اضافہ نہیں کیا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 14 برسوں میں شہری علاقوں کو ایک ملازمت نہیں دی، شہری کوٹہ پر بھی یہاں کے لوگوں کو ملازمت نہیں دی گئی،

کوئی نیا اسپتال نہیں بنایا گیا، سندھ میں کتے کے کاٹنے سے بچے مر رہے ہیں۔ کراچی کی مردم شماری پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ یہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے متنازعہ مردم شماری کو قانونی قرار دے دیا، ایم کیو ایم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر متنازعہ مردم شماری منظور کرائی۔ ایم کیو ایم رہنما آج حلق پھاڑ پھاڑ کر مہاجر حقوق کے نعرے لگا رہا ہے، ہزاروں مہاجروں کو شہید کرنے والا شہداء قبرستان جاکر آنسو بہاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی کمزور حکومت چل ہی پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہے، اسی لئے انہوں نے سندھ میں پیپلزپارٹی کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کا بہانہ کرکے الیکشن کمیشن کو کہا گیا الیکشن ملتوی کردو: مصطفیٰ کمال

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چلانے کا بھتہ یا تاوان سندھ کے شہری ادا کررہے ہیں، عمران خان کے بڑے بڑے دعووں کے برعکس آج سب سے زیادہ کرپشن ہورہی ہے۔ سندھ حکومت کے دباؤ پر نیب جیسا ادارہ بھی اپنے خط واپس لے رہا ہے، سندھ میں لاک ڈاؤن ہے لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔

چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ عجیب منطق ہے رات 8 بجے کورونا آجائے گا، لوگوں کے کاروبار تباہ کئے جارہے ہیں، سندھ حکومت نسل پرست تعصب پرست ہے،

سندھ سے نسل پرست افسران کو لاکر شہروں میں لگا رکھا ہے، ایسے افسروں کو لایا گیا ہے جنہوں سے شاید شہر پہلی بار دیکھا ہو۔ کراچی اور شہری علاقوں کو نسل پرست جماعت نے مفتوحہ علاقہ سمجھ لیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے کو اس لئے کچھ نہیں کہا جارہا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت چلانی ہے، لاڑکانہ کے بچے کو کتے بھنبھوڑ رہے ہیں ہمارے پاس ویکسین تک نہیں ہے۔ ارباب اختیار کو بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے اقدامات امن و امان کا مسئلہ ہیں، پیپلزپارٹی نے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کی امید چھین لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اب تو پیپلزپارٹی کے خلاف بات بھی نہیں کرتے، یہ عمران خان کی منافقت ہے، اس شہر میں مہاجر سیاست کرنے والوں نے شہر کو پیپلزپارٹی کے ہاتھوں فروخت کیا ہے۔

شہری ادارے ایم کیو ایم کے دور میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے حوالے کئے گئے، کراچی کی مردم شماری پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ یہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے متنازعہ مردم شماری کو قانونی قرار دے دیا، ایم کیو ایم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر متنازعہ مردم شماری منظور کرائی۔ ایم کیو ایم رہنما آج حلق پھاڑ پھاڑ کر مہاجر حقوق کے نعرے لگا رہا ہے، ہزاروں مہاجروں کو شہید کرنے والا شہداء قبرستان جاکر آنسو بہاتا ہے، میرے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے کیا درخواست کروں وہ خود پی پی اقدامات کے ساتھ ہے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کرتا ہوں، پاکستان کے حکمرانوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ کراچی کا امن تہہ و بالا ہوسکتا ہے، کراچی میں لاوا پک رہا ہے، نہ پانی ہے نہ ملازمت ہے، ہم فلسطینی عوام سے بھی زیادہ بدقسمت ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ فلسطینی بم اور گولیوں سے مر رہے سندھ کے بچے کتے کے کاٹنے سے مررہے ہیں،

سندھ کے عوام فلسطینی عوام سے زیادہ بدقسمت ہیں، کراچی پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے۔ کل کو یہاں کے نوجوان ظلم کے خلاف مزاحمت کریں گے تو دہشت گرد کہلائیں گے، ادارے آج ہی اپنا کردار ادا کریں اور شہری نوجوانوں کو بچائیں۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کراچی اور سندھ کے شہریوں کی داد رسی کے لئے اقدامات کریں، بلدیہ ٹاؤن میں تحریک انصاف کا امیدوار پاک سرزمین پارٹی سے ہار گیا، ایم کیو ایم بھی بلدیہ ٹاؤن میں پاک سرزمین پارٹی سے ہار گئی ہے۔

متعلقہ خبریں