جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

کراچی کی طوفانی بسیں

بسیں

دوسرا اور آخری حصہ

اصغر گلکالہ ,

طوفانی بس میں ہمارے معاشرے کے بہت سے اخلاقی بہتری کے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں بزرگوں کو کھڑے دیکھ کر نوجوان اپنی نشستیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ آج کل بسوں پر یہ لکھا نہیں ملتا کہ بزرگوں کا احترام کریں ، زنانہ نشستوں کی طرف تو ڈرائیور یا بس مالکان کےچھچھورے  بچوں نے اپنے  موبائل نمبر لکھ رکھے ہوتے ہیں۔

طوفانی بس پہ مستقل سفر کرنے والے حضرات باآسانی اسٹنٹ مین بن  سکتے ہیں اور ہالی ووڈ کے اسپائڈر مین ، تھور سے زیادہ مشہور ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ تو مستقل پریکٹس میں رہتے ہیں،  آفس سے بس اسٹاپ تک پیدل بیس منٹ جبکہ رکشہ پر ستر روپے لگتے ہیں لہذا میں بیس روپے کے چنے خریدتا ہوں اور پیدل بس اسٹاپ تک پہنچتا ہوں اس طرح پچاس روپے کی خطیر رقم بھی بچ جاتی ہے اور میرا پیٹ بھی کم ہو گیا ہے جس کے باعث میری بیگم تشویش میں مبتلاء ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرے  سب یار دوست پیٹ نکلنے کے طعنے دینے لگ جاتے ہیں جبکہ میری بیگم اطمینان میں آ جاتی ہیں۔

 مجھے جو تھوڑی بہت وجہ سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ ابھی میری داڑھی میں دو تین ہی سفید بال ہیں جن کا میں مستقل مزاجی  سے ہر دوسرے چوتھے دن سر قلم کر دیتا ہوں، آج میں نے چھوٹی کے بجائے ذرا بڑے سائز والی بس میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا، دراصل میں نے اس کا قد کاٹھ دیکھ کر سوچا یہ عمر میں بڑی لگتی ہے تو ذرا مہذب  ہو گی، لیکن اس نے اڑان بھرتے ہی میری غلط فہمی کو فوری دور کر دیا، البتہ اس میں بیٹھنے کیلئے نشستیں باآسانی میسر تھیں بس تھوڑا آڑھا ٹیڑھا ہو کہ بیٹھنا پڑتا ہے کیونکہ شاید جب سے کراچی میں میٹرو بس پراجیکٹ کا اعلان ہوا بس مالکان نے سیٹوں کی مرمت کرانا چھوڑ دی ہے، انہیں لگتا ہے کہ چند مہینوں بعد لوگ میٹرو بس کے جھولے لے رہے ہوں گے اور ان غریبوں کی یہ چھکڑا بسیں ریٹائرمنٹ لے کر گاوں چلی جائیں گی۔

 اب انہیں کون سمجھائے کہ ملک میں تبدیلی آ چکی ہے، تو یہ میٹرو جیسے بیوقوفانہ پراجیکٹ  اب ایسے ہی اپنی موت آپ مر جائیں گے، اب تو  ہوٹل مالکان کو ڈرنا چاہیئے، سرکار ان کے گاہکوں کو اکاموڈیٹ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے، سیلانی ویلفیئر والوں کو بھی اپنی دوکان میں کوئی نیا سودا ڈالنا پڑے گا، خیر ہمارا موضوع تو اپنی طوفانی بس ہے، کنڈکٹر اپنا کرایا وصولتے ہی زنانہ دروازے پہ جا کھڑا ہوا، وہاں شاید کوئی ہیٹر وغیرہ لگا ہو گا کیونکہ وہ  فراغت پاتے ہی وہیں اسی دروازے میں جا ٹہرتا  اور میں بیچارہ موٹی جیکٹ چڑھانے کے باوجود اندر بیٹھا بھی سردی محسوس کر رہا تھا، چند اسٹاپ تک تو سب قابل برداشت تھا پھر ایک دوسری  جوان بس نے ہماری بزرگ بس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔

 ڈرائیور صاحب تو جیسے اسی انتظار میں بیٹھے تھے، انہوں نے جو مقابلہ شروع کیا تو سواریاں چڑھانے یااتارنے کا عمل انہیں فضول لگنے لگا، ایک بزرگ کو کہیں اترنا تھا تو وہ کتنی دیر دروازہ پیٹتےرہے، لیکن کوئی اثر نہ ہوا خدا خدا کر کہ ایک جگہ ٹریفک جام تھا تو وہ بزرگ اترے، اترتے ہوئے انہیں کوئی مناسب گالی نہ سوجھ پائی تو با آواز بلند  بد دعا دے کہ چلے  ” اللہ کرے اگلے اسٹاپ ایکسیڈنٹ ہو جائے تمہارا” کچھ لوگ مسکرا دیئے اور کچھ ذرا سہم کہ بیٹھ گئے۔

طوفانی بس کے پہلے حصہ کو پڑھ کر میرے ایک دوست نے ڈبلیو گیارہ کی رائڈ لینے کی خاص تاکید کی ہے، کئی دن سے دیکھ رہا ہوں لیکن وہ شاید میرے رووٹ میں نہیں آتی ،دوست کو تو بھیجنی ہی ہے اگر رائڈ اچھی رہی تو آپ کو بھی ضرور اس سفر سے لطف اندوز کروائیں گے۔

متعلقہ خبریں