جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سندھ حکومت سے معاملات طے نہ ہوسکے، کراچی کا بلدیاتی نظام میئر کے ماتحت ہونا چاہیے : فردوس شمیم نقوی

بلدیاتی نظام

کراچی : فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوسکے، جس کے باعث اب تک پلان حتمی شکل میں نہ آسکا، کراچی کے تمام علاقوں کا بلدیاتی نظام میئر کے ماتحت ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کے رہنماء فردوس شمیم نقوی نے میڈیا سے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ شہر جس نے وزیر اعظم کو ووٹ دیا، جس نے 14 ایم این اے اور 22 ایم پی اے کو منتخب کیا، اس شہر کے لیئے وزیر اعظم کیوں نہیں آئیں گے، یہ شہر عمران خان کے دل کے بہت قریب ہے۔

انہوں نے کہا اگر وزیر اعظم کراچی کا دورہ روائتی انداز سے کریں، شہباز شریف تین جگہ گئے تو وزیر اعظم 10 جگہ چلیں جائیں تو وہ مسئلے کا حل نہیں، وزیر اعظم دو ہفتے سے کراچی کو مدد دینے کے حوالے سے روزانہ میٹنگ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک سندھ حکومت سے وفاق کے ساتھ مل کر کام کے طریقہ کار پر معاہدہ نہیں ہوپایا، جس کے باعث اب تک پلان حتمی شکل میں نہیں آیا ہے۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کوشش ہے کہ مل جل کر کام کیا جائے اور مسائل کا ایسا حل دیا جائے کہ کراچی والوں کو احساس ہو کہ شہر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی : گلشن اقبال میں شہریوں سے لوٹ مار کرنے والا ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ کراچی کے مسائل اتنے بڑچکے ہیں کہ اس شہر اور پورے سندھ کے وسائل سے بھی پورے نہیں ہورہے اور ملک کی موجود معاشی صورتحال کے باعث شاید وفاق سے بھی پورے نہ ہوں، لیکن اگر تینوں مل کر ایسے پلان پر کام کریں جو کراچی کی ضروریات کے مطابق ہو تو شاید کراچی کے آنسو پونچ جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی صفائی، پینے کا پانی، پبلک ٹرانسپورٹ مانگتا ہے اور اس شہر کے اداروں کو سہی چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ کے پی ٹی، ریلوے، 6 کنٹونمنٹ بورڈ، ڈی ایچ اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی زمین وفاق کے پاس ہے، ان سب علاقوں بلدیاتی نظام میئر کے ماتحت ہونا چاہیے، جب تک ایسا قانون نہیں لایا جائے، تو پھر 70 سالوں سے پیدا ہونے والا بگاڑ جو بربادی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسے روکا نہیں جا سکے گا۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کراچی میں سہولیات سے متعلق ڈیٹا کی ضرورت ہے، جس میں بنگالی، افغانی سمیت تمام تارکین وطن اور ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے تمام لوگوں کو لینا پڑے گا، کیونکہ یہ تمام لوگ سہولیات کراچی کی ہی استعمال کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں