کراچی پولیس تحفظ کے بجائے خوف کی علامت بن گئی

کراچی : شہر کی سڑکوں پر موجود پولیس اہلکاروں سے تحفظ کے احساس کے بجائے شہریوں کو خوف آنے لگا ہے کہ نہ جانے کب پولیس ناکردہ گناہ کی سزا دیتے ہوئے گولی ماردے۔

کراچی میں پولیس کی معیاری تربیت نہ ہونے کے باعث مبینہ مقابلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، شاہراہوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کی گولیوں سے اب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

کراچی میں سال 2018 سے اب تک پولیس گردی کے پہ در پہ واقعات میں بچوں سمیت 9 بے گناہ افراد جان سے گئے۔

گزشتہ رات موسمیات کے قریب 18 ماہ کا احسن پولیس اہلکاروں کی گولیوں سے جاں بحق ہوا، مقابلوں کی زد میں آکر متعدد راہگیر بھی زخمی ہوئے۔

پولیس مقابلوں میں احسن کے ساتھ ساتھ مقصود، انتظار، نقیب، نمرہ، امل اور دیگر جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ان واقعات کو عرصہ گزر جانے کے باوجود پولیس کے پیٹی بند بھائیوں کو سزا نہیں مل سکی ہے۔

پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کی ذد میں آکر جاں بحق افراد کے اہل خانہ تاحال انصاف کی کھوج میں لگے ہیں۔

رواں ماہ ہی 6 اپریل کو قائد آباد میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 12 سالہ سجاد فائرنگ کی زد میں آکر موت کی آغوش میں جا پہنچا جبکہ رواں سال کے دوسرے مہینے میں یونیورسٹی سے لوٹنے والی نمرہ بھی انڈا موڑ کے قریب پولیس مقابلے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئی۔

 گزشتہ برس اگست میں والدین کے ساتھ گاڑی میں سوار ننھی امل کو بھی پولیس کی ہی گولیوں نے والدین سے جدا کیا جبکہ  شاہراہ فیصل پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے رکشے پر فائرنگ کے نتیجے میں شہری مقصود جاں بحق ہوا۔

 ڈیفینس میں اے سی ایل سی کی ٹیم کی فائرنگ سے گاڑی میں سوار نوجوان انتظار بھی دم توڑ گیا۔

کراچی پولیس چیف نے احسن کے اہل خانہ سے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پولیس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیئے تریبیت کی ضرورت ہے۔