جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

کاش ! کراچی یتیم ہوتا

کراچی کے مسائل

ویسے عنوان پڑھ کر آپ لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہونگے کہ ارے یہ کیسا عنوان ہے۔ مطلب کوئی یتیمی کی دعا بھلا کیسے مانگ سکتا ہے؟ لیکن اس کے پیچھے بڑی دُکھ بری کہانی ہے بلکہ کہانی کیا ہے ظلم و بے حسی کی داستان ہے۔

 

یتیمی یعنی جس کے والدین نہ ہو اور وہ بے آسرا ہو۔ لیکن یہ دعا کراچی کے لئے کیوں ؟ در اصل ہمارے معاشرے میں یتیموں کے بارے میں کافی لوگ سوچتے ہیں اور ان کی ضرورت کا خیال رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کی داد رسی اور ان کی ہمت بڑھاتے ہیں۔کراچی کے لئےیہ دعا اس لئے کی کہ اگر کراچی یتیم ہوتاتو اسی بہانے کوئی اس کی پرواہ کرتا کوئی اس کے بارے میں سوچتا اور اس کی ضرورتوں کا خیال کرتا۔

اس بارے میں پڑھیں : کراچی کی دیواروں پر درچ اشتہارات

 

کراچی یتیم نہیں ہے اور ہر کوئی اس کاباپ، دادا ہونے کا دعوی دار ہے مگر جب حقوق کی فراہمی کی بات آتی ہے تو کوئی اس کے حق میں کھڑا نہیں ہوتا ہے سوائے بینرز اور نعروں میں۔

 

مقامی لسانی جماعت اردو زبان کے نام پر اس کو اون کرنے کی سب سےبڑی دعوی دار ہے۔اسی طرح حکمران جماعت اب وہ سندھ کی ہو یا وفاق کی ان کا بھی یہ دعوی ہے کہ ہم کراچی کی ترقی کے بارے میں بہت فکر مند ہے اوراس کے لئے ہم رات دن ایک کررہے ہیں۔ کراچی کے نام پر بڑے بڑے فنڈز دیئے جارہے ہیں مگر صرف کاغذوں تک ہی اس کا وجود نظر آتا ہے۔

 

کراچی کے مسائل

 

ہر گزرتا دن دنیا ترقی کررہی ہے اور ہر گزرتا دن کراچی تنزلی کا شکار ہے۔ کراچی دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے جس کی ترقی کا مطلب ملک کی ترقی ہے ۔ کراچی یعنی پاکستان کا معاشی حب ، یعنی پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ، مگر کوئی اس کمزور ہڈی کو مضبوط کرنے کے لئے تیار نہیں۔

 

صرف زبانی جمع خرچ کیا جارہا ہے۔ روزانہ کے دعوی ، ہفتوں کے وعدوں ، سالوں کے منصوبوں کی مثال کراچی میں موجود کچروں کے انبار جیسی ہے جو سڑجاتا ہے مگر جگہ سے نہیں ہٹتا، اور اگر ہٹ بھی گیا تو کچھ دنوں بعد پھر وہ ہی انبار ، انبار یعنی نئے وعدے،نئے دلاسے، نئے منصوبے ، مطلب نیا چورن، نیا منجن، نئی ٹوپیاں۔

 

اس بارے میں پڑھیئے : ہر قسم کےعلاج کے لئے رابطہ کریں

 

کراچی کا شہری کریں تو آخر کیا کریں؟ کس در پر جاکر سر پھوڑے؟ کس کی دہلیز ہر جاکر جبین رگڑے، ہر نیا دن نئے مسائل کے ساتھ ظہور فرماتا ہے۔ شہر کا برُا حال ہے، سڑکیں برسوں ٹوٹ پھوٹ کا شکاررہتی ہیں اور اگر کئی سال بعد کوئی بنوانے کی ہمت کر بھی لیں تو پھر چند دن بعد اپنی اوقات پر ویسے ہی واپس آجاتی ہے جیسے سیاست دان الیکشن کے بعد اپنی اوقات پر آتے ہیں۔

 

روزانہ کا ٹریفک جام، شہر کی اکثر مرکزی شاہراؤں پر تعمیری منصوبوں کے نام پر کئی کئی ماہ بند رہنا، رہائشی علاقوں اور پارکوں میں کچرا کنڈیاں، پارکنگ کی خواریاں اور نہ جانے کون کون سے اذیتیں ہیں جو کراچی کا شہری روز سہتا ہے بھگتا ہے۔

کراچی کے مسائل

یہ تو وہ مسئلے ہیں جو شہر میں نکلنےوالے لوگ بھگتیں ہیں، مگر عورتوں کو الگ قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، کبھی سردیوں میں گیس کا مسئلہ تو کبھی گرمیوں میں شدید لوڈ شیدنگ کا مسئلہ، پانی کا تو پوچھئے نہیں یہ تو باغ و بہار مسئلہ ہے جو سردی گرمی کا لحاظ بھی نہیں کرتا ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی کا معاملے پر پھر کبھی روشنی ڈالیں گے بشرط اگر روشنی ہوئیں تو ۔

اس بارے میں پڑھیں : ہم فکری طور پر کرپٹ ہیں

 

کراچی اگر یتیم ہوتا تو کوئی نہ کوئی درد دل والا اس پر رحم کھاتا، ترس کھاتا اور اس کے بارے میں سوچتا۔ وہ یہ تھوڑی دیکھتا کہ کراچی مہاجر ہے یا سندھی ہے یا پٹھان ہے۔

 

بس یہ دیکھتا ارے اس یتیم کو نگہداشت کی ضرورت ہے اور پھر اس پر دل جمعی کے ساتھ اپنے تمام مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی نگہداشت کرتا اور کو ہنستا کھیلتا اور مسکراتا ہوا بنا دیتا۔ ویسے بھی ابھی والے زبردستی کے اور سوتیلے والدین سے بہتر تھا کہ ایسے والدین نہ ہی ہوتے اورکاش کہ کراچی یتیم ہوتا۔

تحریر : مدثر مہدی

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں