جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

کراچی میں کرکٹ اور ٹریفک جام – جی ٹی وی اداریہ

کراچی میں ٹریفک جام

کراچی میں ٹریفک جام کا مسئلہ اب تو باسی ہوچکا ہے ، مطلب مسئلہ باسی ہوچکا ہے اور کوئی اس کو حل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ بس جیسے چلتا آرہا ہے ویسے ہی چلتا رہے گا ۔کراچی کے عوام تو ویسے بھی بڑی صبر شکر والی ہے اب تو ویسے بھی ان کی عادت ہوگئی ہے، جی جی خوار ہونے عادت۔

 

کراچی میں ٹریفک جام ہونے کی بے شمار وجوہات ہیں ۔ لیکن ایک تو نارمل جام ہوتا ہے اور ایک امپورٹڈ جام۔ نارمل ٹریفک جام تو روز کا ہی معمول ہے اس میں عام طور پر 30 منٹ تا 1 گھنٹے کی خواری کا سامنا ہوتا ہےمگر امپورٹڈ جام کبھی کبھی ہوتا ہے جس میں عام عوام کی خواری کا دورانیہ 0 3منٹ سے2 ۔3 گھنٹے تک کا ہوتا ہے اور ایساہوتا ہے کہ نہ نگلاجاسکتا ہے اورنہ اُگلاجا سکتاہے یعنی بس جہاں ہیںوہی قیام کرلیا جائے اور جب پروٹوکول گزر جائےتو پھر آپ بھی گزر جائیں۔

کراچی میں ٹریفک جام

 

کراچی میں بے شمار مسئلے ہیں جو کہ کئی سالوں سے چلتے آرہے ہیں مگر اب تک حل نہیں ہوئے ان میں ایک ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔ یعنی کراچی کی سڑک پر نکلنے والے شہری کو پتا ہے کہ فلاح روڈ پر ٹریفک جام ملنا ہی ملنا ہے مگر اس انتباہ کے بعد بھی وہ شہری مجبور ہےاُس سڑک پر جانے کے لئے کیونکہ کوئی متبادل راستہ میسر نہیں جس کو اختیار کیا جائے اور لامحالہ اسی سڑک پر جانا ناگزیر ٹھہرتا ہےاور پھر ٹریفک جام میں پھنس کر کڑھنا ہوتا ہے۔

 

یہ پڑھیں : کراچی کاش یتیم ہوتا 

 

کراچی کی سڑکوں پرٹریفک جام کی بہت سی وجوہات ہیں ،جیسے سڑک کا ٹوٹا ہونا، ابلتےگٹر سے بنے دریا ، بڑے بڑے لوگوں کے شاہی پروٹوکول ، سگنل کی خرابی کا ہونا، ٹریفک پولیس کااحترام نہ کرنا، رانگ وے آنا ، اچانک سے ہوئے دھرنے ، اورانٹرنیشنل کرکٹ بھی شامل ہے۔ آجکل کراچی میں کرکٹ جاری ہے اور ٹریفک جام کا مسئلہ بھی، جو 15، 20 روزتک جاری رہنا ہے۔

 

اس مسئلے کو کراچی کے شہریوں نے بھگتنا ہے اور یہ وقت گزارنا ہے۔ پی ایس ایل کا آغاز ہوا چاہتا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ طویل عرصے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کھلاڑی تشریف لائےہیں ۔ اس موقع پر سب خوش ہیں لیکن کراچی کے شہریوں کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ روزانہ کئی گھنٹے ٹریفک میں ضائع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سےغصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔

 

اس بارے میں پڑھیئے : ہر قسم کےعلاج کے لئے رابطہ کریں

 

کرکٹ ہونی چایئے اور بھرپور ہونی چایئے بلکہ ہر وہ ایکٹویٹی ہونی چاہیئے جس سے پاکستان کا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے آئے مگر اس کے لئے بہتر انتظامات ہوسکتے ہیں اچھی پلاننگ ہوسکتی ہے جس کو اپنا کر میچز بھی ہوجائیں اور شہری سکون سے کرکٹ بھی انجوائے کریں۔

 

کراچی میں ٹریفک جام

 

 

ناقص پلاننگ کی وجہ سے خوش گوارا حساس کا شکار لوگ اب ناگواری محسوس کررہے ہیں ۔وہ لوگ جنھیں کرکٹ سے عشق تھا وہ کرکٹ کی سرگرمی سے بیزار ہیں ، آخر کیوں ؟ بات مختصر یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ویسے بھی بہت سے دوسرے مسائل کا سامنا ہے اور اگر کرکٹ بھی مسئلہ بن جائے گا تو آخر وہ کہاں جائے گا۔ کیونکہ کرکٹ تو اب خون میں شامل ہے۔

 

کرکٹ کو ملک واپس لانے والوں کا بہت شکریہ اور ساتھ ساتھ عرض یہ ہی ہے کہ بہترین پلاننگ کے ساتھ یہ تمام سلسلے منعقد کئے جائیں تاکہ شہری انجوائے بھی کریں۔

 

اس بارے میں پڑھیں :  کراچی کی دیواروں پر درج اشتہارات 

 

یہ بات حقیقت ہے کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کو بدنام کرنے کے در پر رہتی ہیں اس لئے مہمان کرکٹرز کی سیکیورٹی انتہائی ضروری ہے کیونکہ بیرونی دشمن اندرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی سازش میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ امید ہے کہ آئندہ کراچی کے شہریوں کو مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ٹریفک جام کی خؤٔاری کے بجائے کرکٹ انجوائے کریں گے۔

 

نوٹ  : آخری اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے جن سڑکوں کو سیکیورٹی کی وجہ سے بند کیا تھا  وہ بھی کھول دی گئی ہیں اور اب عوام کو تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ سیکورٹی اداروں اور انتظامیہ کی قابل قدرکوشش ہے جو قابل ستائش ہے۔ 

متعلقہ خبریں