جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کرتارپور راہداری : پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدے کی نئی تاریخ پر اتفاق

نئی تاریخ

لاہور : پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخطوں کیلئے نئی تاریخ پر اتفاق ہوگیا ہے۔

بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کی فعالیت کے معاملے پر پاکستان اور بھارت میں معاہدے پر دستخطوں کیلئے نئی تاریخ پر اتفاق ہوگیا ہے۔

کرتارپور راہداری کھولنے کیلئے متفقہ معاہدے پر کل 24 اکتوبر کو دستخط متوقع ہے۔ بھارت نے معاہدے پر دستخطوں کیلئے آج 23 اکتوبر کی تاریخ تجویز کی تھی۔ پاکستان کی طرف سے 24 اکتوبر کو دستخطوں کا عندیہ دیا گیا تھا۔  

یہ بھی پڑھیں : کرتار پور میں امریکی و برطانوی سکھ یاتریوں کی آمد

ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کرتارپور زیرو پوائنٹ پر ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے مقرر کردہ فوکل پرسنز معاہدے پر دستخط کریں گے۔

پاکستان کی طرف سے دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل دستخط کریں گے۔

واضح رہے کہ ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی اور اب 21 برس بعد 9 نومبر کو کھولے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 28 نومبر 2018 کو کرتارپور راہداری کے کام کا افتتاح کیا تھا جو 90 فیصد سے زیادہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

کرتار پور راہداری 3.8 کلومیٹر پر محیط  ہے۔ ڈھائی کلومیٹر راہداری پاکستان کی طرف اور 1.3 کلومیٹر بھارت کی جانب تعمیر کی گئی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس منصوبے کے لیے مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں تاہم کچھ نکات پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستان کے ضلع ناروال کی تحصیل شکر گڑھ میں کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہاں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر ہے، لیکن سکھ یاتریوں کو لاہور سے اس گرودوارے تک پہنچنے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور تقریباً تین گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں