جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

تحائف کیسے بیچے؟ پیسہ کیسے پاکستان آیا؟ جواب دینے ہوں گے : محسن رانجھا

تحائف کیسے

اسلام آباد : لیگی رہنماء نے سوال اٹھایا کہ خان صاحب کیسے تحائف بیچے؟ پیسہ کیسے پاکستان لایا گیا؟ سارے جواب دینے ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء محسن رانجھا نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر رکن قومی اسمبلی کو اثاثوں کی تفصیلات دینا ہوتی ہیں۔ جو گوشوارے انہوں نے جمع کروائے، ان میں کروڑوں روپے کے تحائف کی تفصیلات جمع نہیں کروائی گئی۔ صرف بیس فیصد دیکر باقی سب تحائف گھر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران نیازی پاکستانی عوام سے حقائق چھپائے۔ آپ مہنگا تحفہ لیں اور سے بیچ دیں۔ یہ پاکستان کے لیے کتنے افسوس کی بات ہے۔ چوری کرنا اور جھوٹا حلف نامہ الکیشن کمیشن میں جمع کروانا بھی افسوس کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ الیکشن کمیشن کے سامنے آئیں اور پیش ہوں۔ اگر میاں نواز شریف نیب میں عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں تو عمران خان کیوں نہیں؟ اب آپ کی رسیدیں دینے کا وقت آگیا ہے، خان کو یہ سارے جواب دینے ہوں گے۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ بشرہ بی بی اور عمران خان جب سعودی عرب گئے تو وہاں سے ملنے والے تحائف چھپائے گئے۔ اس حلف نامہ میں توشہ خانہ کے کروڑوں روپیے کے تحائف نہیں ظاہر کیے گئے۔ عمران خان کا وکیل عدالت میں جاکر کہتا تھا کہ نیشنل سیکورٹی کا معاملہ ہے۔

محسن رانجھا کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں پاکستانی قوم کو شرمندگی ہوئی، جب شاہی خاندان کو فون کیا گیا کہ آپ کا تحفہ بکنے کے لیئے آیا ہے، کیا ہم یہ خرید لیں۔ پاکستانیوں کے لیے کتنا شرم کا مقام تھا۔ ہم رسول الًلہ کے دور کے واقعات سنا کر کہتے ہیں قانون سب کے لیے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : توشہ خانہ اسکینڈل : عمران خان نااہلی کیس میں دستاویزات فراہم کرنے کا حکم

انہوں نے کہا کہ خان صاحب ہن تسی رسیداں کڈو گے۔ خان صاحب کیسے تحائف بیچے؟ پیسہ کیسے پاکستان لایا گیا؟ اب ثاقب نثار کے پسندیدہ کرکٹر کے فیض یاب ہونے کا وقت آرہا ہے۔ نواز شریف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل ہوسکتا ہے۔ ثاقب نثار کا وہ فیصلہ عمران خان پر بھی لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان دیکھیں گے کہ ٹیکنیکل گراونڈ پر کیسے نااہل ہوتا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو عمران خان مجھے عدالت لے جائے۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کا ٹی سیٹ تک نہیں چھوڑا۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ مثالیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی اور خود چوریاں کرنا۔ جہنوں نے اس کو صادق امین کا سرٹیفکیٹ دیا تھا، ان کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے۔ یہ اس بندے کا اصل چہرہ ہے، یہ چیزیں قوم کے سامنے آنی چاہیں۔

محسن رانجھا کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی سے لے کر آج تک پاکستان سنبھل نہیں سکا۔ آج وقت ہے ماضی کے گناہ سے توبہ کی جائے۔ ان فیصلوں پر سوچا جائے پاکستان کی قوم کو حقیقی لیڈر ملنے چاہیں۔ میاں نواز شریف سمیت سب کو لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتحابات میں اگر میاں نواز شریف کو الیکشن لڑنے کا موقع نہ ملا تو وہ الیکشن بھی شفاف نہیں سمجھے جائیں گے۔ میاں نواز شریف جلد پاکستان واپس آئیں گے اور انتحابات میں حصہ لیں گے۔

متعلقہ خبریں