جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

خواجہ آصف کا 22 جنوری تک کا ریمانڈ منظور

خواجہ آصف

لاہور : احتساب عدالت نے خواجہ آصف کو 22 جنوری تک ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

لاہور کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے موقع پر نیب حکام نے خواجہ آصف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ  تنخواہ کی منی ٹریل کے حوالے سے تفتیش درکار ہے،

طارق میر اینڈ کمپنی اور 51 کروڑ 70 لاکھ روپے کی نقدی کے حوالے سے نیب کو ابھی تک آگاہ نہیں کیا گیا۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تنخواہ لیتے رہے ہیں، پر اس کا ثبوت نہیں دیا۔

عدالت نے کہا کہ پیسے خواجہ آصف کی جیب میں گئے یا نہیں گئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ آصف 50 فیصد تک خود اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں، مختلف لوگوں کو استعمال کر کے پیسوں کو جمہ کروایا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جنہوں نے بھیجے ہیں اگر وہ واپس لے لیں تو خواجہ آصف تو بری ہو گئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 230 ملین جمع کروایا گیا ہے اور صرف 50 ملین نکالا گیا۔ ایسی کیا وجہ ہے کہ خواجہ آصف کو لوگ یہ پیسے بھیجتے رہے ہیں۔ 2010 سے 2020 تک کا ریکارڈ نہیں دیا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے پھر منی لانڈرنگ کے حوالے سے کیوں لکھا ہے؟ منی لانڈرنگ اس کیس میں کیسے ہو گئی؟ شہباز شریف کے کیس میں بھی یہی کہا تھا اگر نہیں بتاتے تو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : خواجہ آصف کے پاس دبئی کی 22 لاکھ ماہانہ تنخواہ کا کوئی ثبوت نہیں : شہزاد اکبر

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنخواہ لیتے رہے ہیں اس کا ثبوت نہیں دیا۔ عدالت نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے سب سے معصوم خواجہ آصف ہی ہیں۔ اگر یہ آپ کو اپنی تنخواہ کے بارے میں بتا دیں تو ان کو گھر بھیج دینا۔

خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر تفتیش میرٹ پر ہو رہی ہے تو آپ ضرور ریمانڈ دیں۔ معزز جج نے کہا کہ جب ان کی تفتیش شروع ہوئی تو لانگ مارچ نہیں ہوا ہوگا؟ ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقے لگ گئے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جب انکوائری لاہور ٹرانسفر ہوئی تب نیب کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

اب یہ اس لیے مجھے لے کر جا رہے ہیں تاکہ میں سب کچھ انکی مرضی کا بتا دوں۔ کیا قانون اجازت نہیں دیتا کہ ایک ایم این اے ہونے کے باوجود میں اپنا کاروبار کروں؟

خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ اگر میں نے پبلک آفس ہولڈ کرتے ہوئے کوئی کمائی کی اور اس پیسے سے کوئی جائیدادیں بنائیں تو ضرور پکڑیں۔ ابھی تک انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں بتایا نہ ہی کوئی تفتیش کی گئی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ آصف نے ابھی تک ہمیں منی ٹریل نہیں دی۔ خواجہ آصف کے وکیل نے ریکارڈ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ان کو دیا ہے۔ اس سے زیادہ میں ان کو کون سا ریکارڈ دوں؟ اپنی جان دے دوں؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دبئی میں خواجہ آصف کے چار اکاؤنٹ ہیں، لیکن وہاں سے کوئی تنخواہ نہیں آئی۔ وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ساری تفتیش کر چکے ہیں یہ اور اب یہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے گلے میں پھندا ڈال کر ان کے سامنے کھڑا ہو جاؤں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ آصف کو 22 جنوری تک ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ خبریں