جی ٹی وی نیٹ ورک
اسلام آباد

فوجی ڈکٹیٹر، ذاتی خواہشات کے لئے دوسروں کی جنگ اپنی دہلیز پر لائے، خواجہ آصف

اسلام آباد: خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نام نہاد افغان جہاد میں ہم نے جو کردار ادا کیا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا، ہماری سویت یونین سے کوئی جنگ نہیں تھی، ہمیں تمام وفاقی اور صوبائی وسائل فاٹا کے مسائل حل کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیئے۔

قومی اسبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چار دہائیوں سے فاٹا کا خطہ دہشتگری کی اماج گا ہ بنا ہوا تھا، اس میں وہاں کے مقامی افراد کا قصور نہیں تھا، 80 کی دہائی میں ہم نے پراکسی وار میں جانے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر کے بعد ایک بار پھر ہم نے پراکسی وار میں جانے کا فیصلہ کر کے سرحد پار جنگ اپنی دہلیز پر لے آئے، جس کے بعد تمام پاکستان اس جنگ کے لپیٹ میں آگیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 80 کی دہائی اور 11 ستمبر کے بعد کی یہ دونوں جنگیں، دو فوجی ڈکٹیر کی اپنے اقتدار کو طول دینے کی جنگیں تھیں، انہوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو عملی جامہ پہناننے کے کے لیئے پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں ڈال دیا۔

70 سالہ دہشتگردی سے پورا پاکستان متاثر ہوا ہے، ہم کلاشنکوف کے کلچر سے آج تک جان نہیں چھڑا سکے ہیں، یہ ہماری تاریخ کا دکھ بھرا سبق ہے، ہم نے اپنی آزادی بیچی اور سپر پاور کی غلامی قبول کی۔

نام نہاد افغان جہاد میں ہم نے جو کردار ادا کیا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا، ہماری سویت یونین سے کوئی جنگ نہیں تھی، ہمیں بس شوق تھا، امریکا اور اس کے اتحادی، افغاستان میں شکست کھا چکے ہیں، وہ اب واپسی کا راست ڈھونڈ رہے ہیں۔

ہمیں تمام وفاقی اور صوبائی وسائل فاٹا کے مسائل حل کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیئے، ہمیں ان کے زخموں پر نمک رکھنا ہوگا، پاکستان کی جنگ میں فرنٹ لائن بنے ہوئے لوگوں کو خصوصی مراعات دیں، جب تک وہاں الیکشن نہیں ہوجاتے، انٹرم سیٹ اپ لگایا جائے، یہ ہم پر فاٹا کا قرض ہے۔

جب مردم شماری ہوئی تو وہاں فاٹا کے لوگ نہیں تھے، لوگ حالات کے باعث مختلف جگہوں پر ہجرت کرچکے تھے، معمول کی زندگی واپس آنے تک فاٹا کو اسپشل توجہ کی ضرورت ہے۔

جب ہم اقتدار کو مفادات کے لئے اپنی آزادی کا اور اپنے ملک کی سرزمین کا سودا کر لیتے ہیں تو وطن کے باسیوں پر پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں، فاٹا کے علاقوں میں سرحد پار سے درندازی ہوتی رہی، ڈرون حملے ہوتے رہے، ایوان ایسے بل پر آئینی ترمیم کرنے جارہا ہے جو حالات کا تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا ملک کی فالٹ لائن کی شدت آج بھی محسوس ہوتی ہے، چاہے وہ ہزارہ کی ہو یا کوئی اور ہو، ریاست ماں ہوتی ہے، ماں زخموں پر مرحم رکھتی ہے اور وہ شفا بخشتی ہے، چاہے وہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں۔

فاٹا کو اسپیشل اسٹیس دے کر ہم ان پر احسان نہیں کررہے ہیں، یہ ہم پر قرض ہے، یہ ہماری مشترکہ جنگ ہے، اس پر پورا ایوان، فاٹا کے تمام ممبر کا اتفاق ہے، کاش یہ ایوان اور موقع پر بھی اتفاق رکھے۔

یہ ایک شروعات ہے، اس طرح کی اور بھی فالٹ لائن ہیں، جب ہم ان کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سیاسی و دیگر مفادات قومی مفاد پر حاوی ہوجاتے ہیں، اسی طرح کے اور بھی مسائل ہیں، وہ بھی اس ایوان کی توجہ مانتے ہیں، یہ ہاؤس بالادست ہے، اس کی بالادستی کو برقرار رکھنا، اس ہاؤس کا فرض ہے۔

ہم اس بل کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام آپ کے ساتھ ہیں، وہاں اب امن آیا ہے، اب ڈرون حملے نہیں ہوتے، بارڈر پار سے دشتگرد نہیں آتے، وہاں باڑ لگائی گئی ہے، جس کی وجہ سے امن آیا ہے۔

ہم اس بل کے ذریعے ان قربانیوں کو یاد کریں جو فاٹا، افواج اور پاکستان کے شہریوں نے دی ہے، جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہے، اتنی کسی نے نہیں دی، کے پی نے بہت نقصان اٹھایا ہے، وہ فرنٹ لائن صوبہ تھا۔

آج ہم طے کریں ہم آئندہ کسی سپر پاور کے ہاتھوں میں نہیں کھیلیں گے، میں تمام ایوان کی طرف سے فاٹا کو مبارک باد دیتا ہوں۔

متعلقہ خبریں