جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

خورشید شاہ کو سپریم کورٹ سے آج بھی ضمانت نہ مل سکی

ضمانت نہ مل

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ کو سپریم کورٹ سے آج بھی ضمانت نہ مل سکی۔

خورشید شاہ کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔ پہلے ان کا اسلام آباد کی احتساب عدالت سے راہداری ریمانڈ لیا گیا، جبکہ 31 ستمبر 2019 کو سکھر کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ کو 45 دن کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ خورشید شاہ تقریباً ایک سال سے جیل میں ہیں۔ 17 دسمبر 2019 کو احتساب عدالت نے پانچ لاکھ کے مچلقے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے خورشید شاہ کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : حکومتی افراد کے خلاف دکھانے کے لئے کارروائی کی جاتی ہے : خورشید شاہ

رضا ربانی نے کہا کہ تعجب کی بات یہ ہوئی کہ جج صاحب ضمانت کے فیصلے کے مطابق مچلکوں پر دستخط کرنے کے بجائے طویل رخصت پر چلے گئے۔ خورشید شاہ کے خلاف 2001 میں یہی مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ 2001 سے اب تک خورشید شاہ ان مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔

خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ 2012 کو نیب نے خود ناکافی شواہد کی بنا پر یہ مقدمات ختم کردیئے۔ اب پھر وہی زرعی اراضی کے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ 12 زرعی اراضی کی جائیدادوں پر جو کیسز بنے وہ سب خورشید شاہ نے اپنے اثاثوں میں ظاہر کی ہیں۔ خورشید شاہ اور اہل خانہ کے اثاثہ جات اور انکم ٹیکس کا ریکارڈ ظاہر کر چکے۔ تین بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی ظاہر کی گئی ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ آپ ان تفصیلات کو چھوڑیں یہ ٹرائل کورٹ کے معاملات ہیں۔ آپ ہمیں بتادیں کہ آپ کن گراونڈز پر ضمانت چاہتے ہیں۔

سید خورشید شاھ کو آج ضمانت نہ مل سکی۔ سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی۔ دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخی پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں