جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

خورشید شاہ کا ٹیکس نہ دینے والوں کی نشاندہی کیلئے کمیٹی بنانے کا مطالبہ

ٹیکس نہ دینے

اسلام آباد : سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ایک کمیٹی بنائے اور جو ٹیکس نہ دینے والوں کا جائزہ لے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے اظہار خیال کیا کہ یہ بجٹ زرعی شعبے کے لیے اچھا بجٹ ہے، یہی شعبہ ملک کو مالی مسائل سے نکال لے گا۔ دس سال تک زرعی شعبے کو اس طرح کا پیکج دیا جائے تو پھر پاکستان کو کسی کے پاس قرض کے لئے نہیں جانا پڑیگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سگریٹ پر کیوں ٹیکس زیادہ نہیں لگاتے، اس سے ٹیکس کے ساتھ عوام کو بیماریوں سے بچانا ہے۔ دل کے امراض، جگر کے کینسر، کینسر اور دیگر بیماریاں سگریٹ نوشی کے باعث ہیں۔ کم از کم 20 روپے ایک سگریٹ پیکٹ پر ٹیکس بڑھانا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ایک کمیٹی بنائے اور جو ٹیکس نہ دینے والوں کا جائزہ لے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس معاملے پر 200 فیصد متفق ہیں۔ سگریٹ پر کتنا ٹیکس لگایا گیا ہے، وزارت خزانہ کو اس حوالے سے بتانا چاہیئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمیں اس معاملے کو اٹھائیں، کیا یہ اتنے بڑے مافیاز ہیں؟ آج وزیراعظم میاں شہباز شریف کو اس ایوان میں ہونا چاہیئے تھا۔

یہ بھی پڑھیں : شہباز شریف کی مستحق افراد تک ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کیلئے حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایات

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا کہ خورشید شاہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر صحت ہے۔ اس پر ٹیکس لگایا جائے تاکہ عوام کو مختلف بیماریوں سے بچایا جائے۔ سگریٹ پر ٹیکس لگائیں قوم خوش ہوگی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سید خورشید شاہ کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس معاملے کو اٹھایا۔ مجھے وزیراعظم نے کہا ہے کہ 70 ارب روپے تک ٹیکس سگریٹ پر لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سید خورشید شاہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں 200 ارب روپے ٹیکس جمع کرینگے۔ سگریٹ کی قیمت کتنی ہونی چاہیئے، یہ مجھ پر چھوڑ دیں، میں ان سے پیسے لے کر دکھاؤں گا۔

متعلقہ خبریں