خیبر پختونخواہ : آئس کی فروخت کرنے والے ہوجائیں ہوشیار، سزائے موت ملے گی، کابینہ اجلاس میں فیصلہ

پشاور: خیبر پختونخواہ حکومت نے آئس کے خلاف دیواریں کھڑی کردیں، سو گرام آئس پر سات سال قید، ایک کلو آئس پر سزائے موت، وزیراعلی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں فیصلہ۔

وزیراعلی محمود خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزراء اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور مشیر برائے ضم اضلاع اجمل وزیر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس نے آئس نشہ کی روک تھام سے متعلق ایکٹ کی منظوری دے دی گئی۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سو گرام آئس پر سات سال قید اور تین لاکھ جرمانہ ہوگا، جبکہ ایک کلو آئس پر سزائے موت یا عمر قید یار چودہ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ کابینہ میں آئس نشہ کی روک تھام کے لئے وسیع کمپین چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں صوبائی محتسب سیکٹریٹ سروسز میں ترامیم، جوڈیشل اکیڈمی ترمیمی بل، محکمہ اعلی تعلیم میں سکالرشپ رولز اور پاک آسٹریا انسٹیوٹ کے لئے ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دے دی، جبکہ لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی فائنل  ہوچکا ہے اگلے خصوصی کابینہ اجلاس میں اسے منظور کیا جائے گا۔

مشیر برائے ضم اضلاع اجمل وزیر نے کہا کہ 28ہزار لیویز اور خاصہ دار ضم ہوگئے اور فنڈز جاری کیے گئے ہیں جبکہ 4 ارب مختص کیے گئے جبکہ تمام انفراسٹرکچر چھ مہینے میں مکمل ہوگا۔

اجمل وزیر نے کہا کہ انصاف روزگار اور صحت کارڈ سکیم کا افتتاح آج ہوگیا ہے، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو سات لاکھ بیس ہزار روپے علاج کی مد میں ملینگے۔