جی ٹی وی نیٹ ورک
Uncategorized

لاہور ہائیکورٹ میں پرویز مشرف کی درخواستوں پر کارروائی 10 جنوری تک ملتوی

پرویز مشرف کی

لاہور : پرویز مشرف کی سزا اور خصوصی عدالت کے خلاف درخواست کی سماعت میں فل بینچ نے ریمارکس دیئے کہ خصوصی عدالت نے کن بنیادوں پر فیصلہ کیا کہ عدالت اس کا جائزہ نہیں لے سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہرعلی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست میں خصوصی کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا اور خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی.

سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق نے بتایا کہ 2010 میں غداری ایکٹ میں ایمرجنسی لگانے کے اقدام کو شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پرویز مشرف کو سزائے موت کے خلاف متفرق درخواست کی سماعت کل ہوگی

عدالتی استفسار پر سابق صدر کے وکلا نے نشاندہی کی کہ ایمرجنسی لگانے کے نافذ کے احکامات کیلئے چیف ایگزیکٹو کا لفظ استعمال کیا گیا۔

وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ خصوصی عدالت کمپلینٹ سے پہلے ہی بن گئی تھی.

وفاقی حکومت کے وکیل نے اشتیاق اے خان نشاندہی کی کہ 20 نومبر 2013 کو ٹرائل کے لیے عدالت نوٹیفائی کیا گیا اور شکایت 19 دسمبر 2013 کو آئی. فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ کمپلیننٹ کے دستخط ہی نہیں ہیں ۔

فل بنچ نے استفسار کیا کہ کابینہ نے خصوصی عدالت کی منظوری دی یا اس کا جواب دیا ہو تو وہ جواب کہاں ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان نے نشاندہی کی کہ کابینہ کا کوئی جواب ریکارڈ پر نہیں ہے.

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے درخواستوں پر کارروائی 10 جنوری تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں