لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء علیم خان کو رہا کردیا

لاہور : ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی.

عدالت میں نیب پراسیکیوٹر اور علیم خان کے وکیل نے دلائل دیئے، عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بتایا جائے ملزم کس ریمانڈ پر جیل میں قید ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنیاں بنانے پر عدالت کو آگاہ کیا.

نیب تفتیشی نے الزام لگایا کہ علیم خان پچاس کروڑ روپے کی منی ٹریل نیب کو نہیں دے سکے ہیں، علیم خان کے آٹھ سو پچھتر ملین کے اثاثوں کے ذرائع بھی اب تک نیب کو موصول نہیں ہوئے ہیں۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کو مزید تفتیش کے لیے کتناوقت درکار ہے، علیم خان اپنے تمام تر اثاثوں کا ذکر اپنے گوشواروں میں کر چکے ہیں اب آپ کو کس چیز کی تفتیش کرنی ہے؟ عدالت کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیل کے لئے ہم نے متحدہ عرب امارات میں خطوط لکھے ہوئے ہیں، جن کے جواب آنا ابھی باقی ہیں لہذا عدالت تفتیش کے لئے مزید وقت دے.

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے دونوں جانب سے وکلا کے دلائل سننے کے بعد علیم خان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا اور ٹرائل کورٹ میں دس دس لاکھ کے دو مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا.

Facebook
Facebook
YouTube
YouTube