جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے سماجی کارکن عمار علی جان کو نظر بند کرنے سے روک دیا

عمار علی جان

لاہور : عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کا حکم غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سماجی کارکن عمار علی جان کو نظر بند کرنے سے روک دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی ایم کے مبینہ رکن عمار علی جان کی تیس دن کے لیے نظر بندی اور گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور،پنجاب حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

حنا جیلانی ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے ڈاکٹر عمار کی نظری بندی کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کیا کرتا ہے؟ حنا جیلانی نے بتایا کہ درخواستگزار پروفیسر ہے، ایف سی کالج میں پڑھاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بے بنیاد مقدمہ عزت و وقار کیلئے ایک بڑا دھچکا قرار، لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کسی  کو محض مقدمہ درج ہونے کی بنیاد پر نظر بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں جو طاقت ور لوگ ہیں وہ تو اپنے مخالفین کو کہیں نکلنے ہی نہیں دیں گے۔

عمار علی جان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیچر، رائٹر اور سماجی کارکن ہوں۔ قانون پر عملدرآمد کرنے والا محب وطن پاکستانی ہوں غیر قانونی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پہلے ہی دومقدموں میں نامزد اور ضمانت پر ہوں۔ لاہور ہائیکورٹ ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دے۔

عدالت نے ڈاکٹر عمار علی جان کو نظر بند کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف ورزی ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین سے 17 دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔

متعلقہ خبریں