جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ینگ فارمسٹ ایسوسی ایشن کا ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف چیف جسٹس کے نام خط، کرمنل انویسٹیگیشن کی استدعا

ینگ فارمسٹ

اسلام آباد : معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی کرسی خطرے میں پڑ گئی۔ ینگ فارمسٹ ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کرمنل انویسٹیگیشن شروع کرنے کی استدعا کردی۔

ینگ فارمسٹ ایسوسی ایشن نے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا ”نیٹ ورک آف کنزیومر پروٹیکشن” کے نام سے ایک این جی او چلا رہے ہیں۔

خط کے مطابق ڈاکٹر ظفر کئی سال تک مصر میں عالمی ادارہ صحت تک مِڈ لیول پر منسلک رہے، وزیر اعظم پاکستان کے 72 گھنٹوں میں ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے حکم پر ادویات کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے زیادہ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : آج ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیں گے : سپریم کورٹ

ینگ فارمسٹ نے خط میں بتایا کہ ظفر مرزا کی جانب سے WHO کی منظوری اور ٹیسٹ کے بغیر 3 بلین ٹائیفائڈ ویکسین انڈیا سے درآمد کیے گئے۔ ظفر مرزا نے ان کی کرپشن سے پردہ اُٹھانے پر ڈاکٹر عبید کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

خط میں مزید الزام لگائیں گئیں ہیں کہ ظفر مرزا کی جانب سے جونئیر ڈاکٹرز کو وفاقی اسپتالوں میں سربراہان کے عہدوں سے نوازا گیا۔

ظفر مرزا کی جانب سے اپنے دوست اظہر حسین کو ماہانہ 8.5 لاکھ تنخواہ پر ممبر ڈرگ کورٹ اسلام آباد تعینات کیا گیا۔ خط میں ظفر مرزا کے خلاف کرمنل انویسٹیگیشن شروع کرنے کی استدعا کی گئی۔

متعلقہ خبریں