جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

فروری سے احتجاج کا اعلان : کراچی میں بلدیاتی انتخابات بغیر حلقہ بندی کے ہوئے : خالد مقبول

سے احتجاج

کراچی : ایم کیو ایم رہنماء کا کہنا ہے کہ جنوری کو الیکشن نہیں، ایک ایکشن ہوا تھا، کامیاب ہونے والے شرمندہ ہیں، فروری کے پہلے ہفتے سے احتجاج شروع ہوگا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ہوگئے۔ جو کامیاب نظر آرہے ہیں، وہ شرمندہ بھی نظر آرہے ہیں۔ جو الیکشن میں شریک ہوئے، تاریخ انہیں مجرم بھی ٹھہرا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں کیں۔ جس قانون کے تحت حلقہ بندیاں ہوئیں۔ وہ قانون واپس لے لیا گیا۔ تاریخ کی نگاہ میں وہ مجرم گردانے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر 2021 کو سندھ لوکل گورنمنٹ کے ایکٹ 10۔1 کے تحت سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں کیں۔ اسی سیکشن کو 12 جنوری 2023 کو سندھ حکومت نے واپس لے لیا۔ 13 جنوری کو کسی یوسی کی حلقہ بندی موجود نہیں تھی۔ انتخابات بغیر کسی حلقہ بندی کے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر ٹریبونل قائم

ایم کیو ایم رہنماء نے کہا کہ ہم آئینی قانونی جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ اگر ہم حصہ نہیں لیں گے، تو الیکشن تسلیم ہی نہیں ہوں گے۔ 15 جنوری کو الیکشن نہیں، ایک ایکشن ہوا تھا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ چالیس سالوں سے سندھ کے شہری علاقوں کی ایک نمائندہ جماعت یہاں بیٹھی ہے۔ آج سے سات سال پہلے ہونے والے الیکشن میں جتنے ووٹ ایم کیو ایم کو پڑے، اس سے کم تمام سیاسی جماعتوں کو اس بار ملے۔

انہوں نے کہا کہ مظلوم پولیس والوں کو ٹھپے لگانے کا اضافی کام دیا گیا۔ فروری کے پہلے ہفتے میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں