جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

دنیا کے بیس فیصد ملکوں میں لاک ڈاؤن، غریب اور امیر ممالک شامل، عوام کا بھرپور ساتھ

دنیا کی بیس فیصد آبادی اب اپنی اپنی حکومتوں کی بات مانتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی ہے۔ ان ممالک میں امیر غریب اور غریب ترین ممالک سب شامل ہیں۔

دنیا کی مہذب اقوام نے نہ صرف اپنی اپنی حکومتوں کی بات سنی بلکہ لاک ڈاؤن جیسے سخت فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے عالمی وباء کو شکست دینے کیلئے اپنے حصے کی جنگ لڑنا شروع کی۔

ان ممالک میں صرف ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ غریب ممالک بھی شامل ہیں، جہاں غربت کی لکیر سے نیچے موجود افراد کا موقف بھی صاف ہے، زندہ رہیں گے تو کمائیں گے بھی اور کھائیں گے بھی۔

چائنہ کے بعد اٹلی فرانس برطانیہ نیوزی لینڈ اور پولینڈ جہاں مکمل لاک ڈاؤن ہے، ان ممالک کا شمار تو امیر ملکوں میں ہوتا ہے، مگر غریب ترین براعظم افرقیہ کی متعدد ریاستیں بھی اب مکمل لاک ڈاؤن میں ہیں۔

لاطینی امریکا کا غریب ملک کولمبیا بھی اپنی حکومت کے صرف ایک اعلان کے بعد لاک ڈاؤن کی طرف چلا گیا۔  کولمبیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے، منشیات کا کاروبار عروج پر رہتا ہے، مگر کورونا کے خلاف کولمبیا کے لوگوں نے بھی خود کو گھروں میں قید کرلیا۔

تباہی سے دوچار عراقی عوام جو مسلسل سیاسی انتشار اور حکومت مخالف مظاہروں میں آگے آگے تھی، اب اس وائرس کے خلاف ایک ہوگئی اور بغداد سمیت پورے عراق کی سڑکیں مکمل لاک ڈاؤن کے حکم پر لبیک کہتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اور شام، جہاں حکومتی اعلان سے پہلے ہی لوگوں کی بڑی تعداد از خود گھروں میں محدود ہوگئی۔

دنیا کی سب سے بڑی غریب آبادی بھارت جو دنیا کی دوسری بڑی آبادی بھی ہے، بھارت میں صرف ایک اعلان کے بعد ایک سو چالیس کروڑ افراد فوری طور پر لاک ڈاؤن میں چلے گئے اور نہ صرف حکومت کی بات سنی بلکہ کورونا وائرس کو شکست دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

متعلقہ خبریں