جی ٹی وی نیٹ ورک
پنجاب

لمپی اسکن وائرس : سندھ کے بعد پنجاب میں بھی پھیل گیا

لمپی اسکن وائرس سندھ کے بعد پنجاب

بڑی عید کی آمد آمد ہے لیکن اس سے پہلے لمپی اسکن وائرس نے عوام میں شدید خوف پھیلا دیا ہے، اب یہ خود سندھ کے بعد پنجاب میں بھی پھیل گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے شہر فیصل آباد میں گزشتہ ہفتے کے دوران 400 کے قریب کیسز سامنے آنے پر محکمہ لائیو اسٹاک نے ویکسین سرٹیفکيٹ لازمی قرار دے دیا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر جانوروں کی ویکسین لگانے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔

لمپی اسکن وائرس سے جنوبی پنجاب کا حصہ بہت زيادہ متاثر ہوا ہے، صرف ضلع بہاولپور ميں سيکڑوں جانور اس بیماری کے باعث اب تک مرچکے ہیںاور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

مقامی بیوپاریوں کا کہنا ہے ہم بڑی محنت سے جانور پالے اور انہیں عید کے لیے تیار کیا، لیکن اس بیماری کی وجہ سے اب ان کا کوئی خریدار نہیں مل رہا ، قصائی 10،15 ہزار کا جانور خرید رہے ہیں اور ہم ان کو بیچنے پر مجبور ہیں۔

مقامی بیوپاری کا کہنا تھا کہ ہم 1،1 جانور پر 20،30 ہزار لگا چکے ہیں اور ہم اب مجبوری میں گھاٹے کا سودا کررہے ہیں ، اس تشویشناک صورتحال پر حکومت ابھی تک حرکت میں نہیں آئی۔

بہاولپور اور فیصل آباد کے ساتھ ساتھ ملتان کے مویشی بھی لمپی اسکن سے بيمار پڑنے لگے ہیں اور بیوپاری شدید پریشان ہیں۔

یہ پڑھیں : سندھ کی منڈیوں میں لمپی وائرس جانوروں کی فروخت جاری

مقامی بیوپاری کے مطابق بے شمار جانور اس بیماری سے متاثر ہوچکے ہیں اوراس کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ، اس بیماری پر محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق بہاولپور ڈویژن میں ايک ہزار 964، ملتان میں 406 اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ايک ہزار 430 جانور لمپی اسکين ميں مبتلا ہو چکے ہيں۔

محکمے کے مطابق بيماری کے باعث سندھ سے درآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے، ويکسين کے بغير مويشيوں کوپنجاب لانے پر پابندی عائد ہے، اب صرف ویکسین شدہ جانور ہی لائے جاسکیں گے۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق پنجاب میں سندھ سے کوئی جانور داخل نہیں ہونے دے رہے، کیونکہ وہاں حالات بہت خراب ہے، اب تک 1800 ٹرک واپس کیے ہیں، جن میں 22 سے 23 ہزار جانور موجود تھے۔

متعلقہ خبریں