مغربی سرحد پر دہشتگروں کی فائرنگ، پاک فوج کے 4 جوان شہید

سرحد

روالپنڈی : مغربی سرحد پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کے 4 جوان شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا، جوابی کارروائی میں دو شدت پسند بھی مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں گزشتہ رات اسپن وام کے علاقے اباخیل میں سیکیورٹی فورسز معمول کے گشت پر تھیں کہ شدت پسندوں نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ضلع بلتستان کے رہائشی 23 سالہ سپاہی اختر حسین نے جام شہادت نوش کیا۔

اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دو شرپسند مارے گئے۔

دوسری طرف دیر میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔

شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والوں میں ضلع خیبر کے رہائشی 28 سالہ لانس نائیک سید امین آفریدی، مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ لانس نائیک محمد شعیب سواتی اور نوشہرہ کے رہائشی 22 سالہ سپاہی کاشف علی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے حوالدار شہید

یاد رہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے وقفے وقفے سے متعدد مرتبہ پاک فوج پر حملے کیے ہیں، جن میں کئی جوان شہادت نوش کرچکے ہیں۔

رواں برس جولائی میں شمالی وزیرِستان میں پاک-افغان سرحد پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان کے سرحدی علاقے سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جون میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ اور بلوچستان کے علاقے قمر دین کاریز میں سرحد پار حملوں کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی فائرنگ سے 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

اپریل 2018 میں جنوبی پارہ چنار سے 25 کلومیڑ دور لوئر کرم ایجنسی کے علاقے لاقہ تیگا میں سرحد پار افغانستان کے علاقے سے فائرنگ کے نتیجے میں 2 فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکار شہید اور 5 زخمی ہو گئے تھے۔