مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ انسان باسٹھ روز سے قید کی زندگی گزارنے پر مجبور

انسان

سری نگر : مقبوضہ کشمیر کی ہر گلی اور ہر چوک پر قابض افواج کا پہرہ برقرار ہے۔ دنیا کی سب بڑی جیل میں اسی لاکھ انسان باسٹھ روز سے قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مقبوضہ جموں اور کشمیر میں لاک ڈاؤن تیسرے مہینے بھی جاری ہے۔ ہر گلی اور ہر چوک پر قابض افواج کا پہرہ برقرار ہے۔

دنیا کی سب بڑی جیل میں اسی لاکھ انسان باسٹھ روز سے قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر کی مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت

مسلسل کرفیو اور لاک ڈاون سے اشیائے خوردو نوش کی قلت بڑھ گئی ہے۔ بھوک اور نفسیاتی امراض سے اموات کی خبریں آنے لگیں ہیں۔

علاقے میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ سمیت ذرائع ابلاغ پر بھی پابندیاں ختم نہ ہوسکیں۔ کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ بھی منتقطع ہے، جبکہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور دوائوں کی قلت سے آئے روز کئی مریض لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

بھارتی حکومت عالمی قوتوں کے مطالبوں کے باوجود باسٹھ روز سے علاقے پر کرفیو مسلط کئے ہوئے ہے، جس کی عالمی سطح پر مذمت بھی کی جاچکی ہے۔