مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور لاک ڈاؤن کو 100 دن مکمل

100 دن مکمل

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور لاک ڈاؤن کو 100 دن مکمل ہوگئے ہیں، وادی میں احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی سخت کردی گئی۔ آزاد کشمیر کے شہری اپنی بھائیوں کے لیئے سڑکوں پر نکلے آئے۔

بھارتی فورسز کے مقبوضہ کشمیر میں عوام پر ظلم وستم اور پانچ اگست سے جاری کرفیو کو آج 100 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ ذرائع آمدرفت پر مکمل پابندی ہے۔

ممکنہ احتجاج کی وجہ سے وادی میں مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ہر گلی ہر سڑک پر فورسز کی گاڑیاں اور اہل کار موجود ہیں۔ 100 دن سے جاری کرفیو نے جنت نظیر وادی میں بحران کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر: کرفیو اور لاک ڈاؤن اٹھانوے روز میں داخل، 2 نوجوان شہید

عوام کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوچکیں ہیں۔ وادی سے کسی کو نہ باہر جانے کی اجازت ہے نہ آنے کی۔ پیلٹ گنز کی فائرنگ سے زخمی نابینا ہوگئے، مگر علاج کرانے نہیں دیا گیا۔ جنت نظیر وادی میں قدرت کے حسین نظارے بہت سارے نابینا کشمیری اب دیکھ نہیں سکتے۔

دوسری طرف آزاد کشمیر میں عالمی برادی کی توجہ وادی کشمیر کی مخدوش حالت کی طرف مبذول کرانے کے لیئے عوام سراپا احتجاج ہیں۔ عوام احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے شاہراہوں پر نکل آئے۔

مظاہرین نے سیاہ جھنڈے، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں، جن پر بھارت کے کشمیریوں پر مظالم کے خلاف نعرے درج ہیں۔ مظاہرین نے بھارتی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور مقبوضہ وادی کے فوجی محاصرے کے خلاف علامتی ہتھکڑیاں باندھ رکھی ہیں۔

سراپا احتجاج عوام کا کہنا ہے کہ ہمارے ہزاروں بے گناہ نوجوان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قید میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی قلت ہے مگر دنیا خاموش ہے، بچوں کو دودھ نہیں مل پارہا جو کہ منظم نسل کشی کے مترادف ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے عوام کا کہنا تھا کہ 100 دن سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، مگر دنیا خاموش ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کشمیریوں سے حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے۔