مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط 66 ویں دن میں داخل

66 ویں دن

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط 66 ویں دن میں داخل ہوگیا۔ وادی میں آج بھی کاروبار معطل اور اخروٹ کے کاشتکار پریشانی کا شکار ہیں۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی جبری تسلط 66 ویں دن میں داخل ہوگیا ہے، کاروبار زندگی تاحال معطل ہے۔ اخروٹ کے کاشتکار پھل وقت پر منڈیوں میں نہ پہنچنے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کی وجہ سے انسانی المیہ تشویشناک صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ گھروں میں محصور کشمیری قابض فوج کی بربریت کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں۔ قابض فوج رات گئے لوگوں کے گھروں میں دھاوا بول دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے حق میں آواز اٹھانا ہوگی : ملیحہ لودھی

گزشتہ روز بھاری فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں دو نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ بھارتی فوج بارہ روز سے کپواڑہ، بارہ مولا، سری نگر، کلگام، شوپیاں سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

66 روز سے گھروں میں قید کشمیریوں تک ضروریات زندگی کی کسی بھی چیز کی رسائی ممکن نہیں رہی۔

سیب کے بعد اخروٹ کے کاشتکار بھی کرفیو کی وجہ سے پریشان ہوگئے۔ قرضے لے کر کھیتی کرنے والے کشمیری کسان پھل پکنے کے بعد منڈیوں تک نہیں پہنچا سکے۔

لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے اب تک چار لاکھ افراد ہجرت کر چکے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق علاقے میں شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ابھی تک علاقے کو 1.4 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ہزاروں نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔