مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن پینسٹھ ویں روز بھی جاری

پینسٹھ ویں روز

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن پینسٹھ ویں روز بھی جاری ہے۔ مسلسل کرفیو کے باعث کاروباری برادری دیوالیہ ہونے لگی۔ اب تک 3 ہزار 9 سو کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔

نہتے کشمیریوں پر بھارتی سفاکیت انتہا کو پہنچ گئی۔ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن پینسٹھ ویں روز بھی جاری ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلسل کرفیو کے باعث بچوں کیلئے دودھ، مریضوں کیلئے ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کا بحران سنگین ہوگیا۔ ذرائع مواصلات کی بندش بھی کشمیریوں کو ذہنی امراض میں مبتلا کرنے لگی ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث تاجروں کو اب تک 3 ہزار 9 سو کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ بندش کے باعث دوائیں اور اشیائے خور و نوش گوداموں میں ہی خراب ہوگئیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر خارجہ کی امریکا اور یورپ کو آزاد کشمیر کا دورہ کرانے کی پیشکش

مورچوں پر تعینات قابض فوجی اہلکار ایمبولینسز کو بھی موومنٹ کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ سرینگر اسپتال انتظامیہ کے مطابق کرفیو کے باعث روزانہ 6 مریض لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں خواتین کے حقوق ہر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقوں بلخصوص کشمیر میں ظلم اور جبر کا سامنہ کرتی خواتین کے حق میں آواز اٹھانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت اور انسانیت سوز مظالم نے خواتین ہر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں، بھارت کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر میں محصور خواتین کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔ قابض افواج ماؤں کے سامنے ان بچے اٹھا لے جاتی ہیں، جن میں سے بہت سوں کا کوئ سراغ نہیں ملتا ہے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ آج ہی کے دن نیو یارک ٹائمز کے صفہ اوّل پر ایک کشمیری ماں کی بے بسی کی تصویر بھارتی مظالم سے پردہ چاک کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ حقوق نسواں کی حمایت کی ہے۔ ایسا کرنا ہمارے مذہب، آئین اور نظریہ کا حصہ ہے۔