جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

مقبوضہ جموں و کشمیر کی باضابطہ طور پر تقسیم کردی گئی

باضابطہ

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کی باضابطہ طور پر تقسیم کردی گئی ہے اور جموں و کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ دو ٹکروں میں وفاق کے زیر نگرانی ہوگا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر اب ریاست نہیں رہا، یہ سرکاری طور پر گزشتہ نصف شب سے دو مرکزی خطوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

مرکز کے زیر انتظام دو نئے علاقے جموں و کشمیر اور لداخ، باضابطہ طور پر بھارت کے نامور سیاستداں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 144 ویں یوم پیدائش کے موقع پر وجود میں آئے ہیں۔

سردار ولبھ بھائی نے 560 سے زائد سلطنتوں کا بھارت میں انضمام کروایا تھا، یہی وجہ ہے کہ 31 اکتوبر کو بھارت میں قومی اتحاد کا دن منایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی کرفیو اٹھاسی ویں روز بھی برقرار

جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے تقریبا تین ماہ بعد ریاست کو باظابطہ طور پر دو مرکزی علاقے جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب کسی ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کر دیا گیا۔ بھارت میں اب ریاستوں کی کل تعداد 28 ہو گئی، جبکہ یونین ٹیریٹریز کی تعداد مجموعی طور پر نو ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کا آئین اور پینل کوڈ آج سے ختم ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتظامی لحاظ سے بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹریز میں پانڈیچری جیسی مقننہ ہوگی، جبکہ لداخ چنڈی گڑھ کی طرح مقننہ کے بغیر ایک یونین ٹیریٹری ہوگا اور ایکٹ کے مطابق دونوں یونین ٹیریٹریز کی سربراہی دو الگ لیفٹیننٹ گورنرز (LG) کریں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مرکز اور پولیس کا براہ راست کنٹرول ہوگا۔

لداخ کی یونین ٹیریٹری مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں ہوگی جو گورنرکے ذریعے خطے کا انتظام کرے گی۔ کئی محکموں کے نام تبدیل کرنے کے علاوہ اب سرکاری فائلوں میں بھی لفظ ‘ریاست’ کا استعمال بھی ختم ہو گیا۔

متعلقہ خبریں