مارچ کا اعلان 18 ستمبر کو ہوگا، اپوزیشن کے مشترکہ اسٹیج کی خواہش ہے : مولانا فضل الرحمان

مارچ

ملتان : مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 18 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیا جائے گا، خواہش ہے مشترکہ اسٹیج ہو اور تمام اپوزیشن قائدین ساتھ ہوں۔ کشمیر کو بچانے کی بجائے کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ  18 ستمبر کو جمعیت کے اجلاس میں مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔ مارچ اسلام آباد کی جانب ہوگا۔ الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں دھاندلی ہوئی۔ تمام اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں دوبارہ الیکشن ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : بلاول بھٹو کا مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ خواہش ہے مشترکہ اسٹیج ہو اور تمام اپوزیشن قائدین ساتھ ہوں۔ رکاوٹیں توڑ کر اسلام آباد جائیں گے۔ حکومت نے روکنے کی کوشش کی تو پورا ملک روک دیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام لانا جناح پور منصوبے کی طرف قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ریاستی اداروں نے کرانا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں۔ کشمیر کو بچانے کی بجائے کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے۔ کشمیر کا بھارت میں انضمام کیا گیا۔ وزیراعظم نے کشمیر میں سرکاری افسران کے اجتماع سے خطاب کیا۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی سفارتکاری سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ  19 ستمبر کو کشمیر میں جمعیت علماء اسلام کا جلسہ ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مارچ کے حوالے سے حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ موجودہ حکومت ناجائز ہے اور ایک سالا کارکردگی کے مطابق نااہل بھی ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال بدتر ہوچکی ہے۔ لوگوں کے کاروبار بند ہورہے ہیں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ 50 لاکھ گھر دینے کی بجائے 50 لاکھ گھر گرادیئے گئے۔

مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ  دنیا بھر میں جمہوریت کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے۔ لبیا، عراق، یمن، شام میں کون سی جمہوریت ہے۔