جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

معروف نعت خواں جنید جمشید تین برس بعد بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

جنید جمشید

ماضی کے مقبول گلوکار اور معروف نعت خواں جنید جمشید کو اس دنیا سے بچھڑے تین برس بیت گئے، ان کے مداح آج بھی انھیں یاد کر رہے ہیں۔

7 دسمبر 2016ء کو جنید جمشید پی آئی اے کے طیارے میں سوار تھے جو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔ اس سانحے کے نتیجے میں طیارے کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

52 سالہ جنید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔

جنید جمشید نے موسیقی کے کیریئر کا آغاز میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے کیا اور پہلے البم کی ریلیز نے ہی اس بینڈ اور اس کے مرکزی گلوکار جنید جمشید کو شہرت کی ایسی بلندیوں تک پہنچایا کہ وہ ایک مثال بن گئے۔

1987ء میں ریلیز ہونے والے گیت "دل دل پاکستان” نے خاص طور پر جنید جمشید کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا، بعد ازاں وائٹل سائنز کے فرنٹ مین کے طور پر چار اسٹوڈیو البمز کی کامیابی کے بعد انہیں اپنے سولو کیریئر میں بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی ۔

یہ بھی پڑھیں: معروف شاعر و مزاح نگار پطرس بخاری کی 61 ویں برسی

تاہم 2002ء میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعیلمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔

یہی وہ وقت تھا جب جنید جمشید نے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا اور مذہب کی تبلیغ اور حمد و نعت سے وابستہ ہوگئے، نعت خوانی اور اپنے ملبوسات کے برانڈ سمیت جنید جمشید گزشتہ برسوں میں ماہ رمضان کی خصوصی نشریات اور پروگراموں میں بطور میزبان بھی نمایاں رہے۔

جنید جمشید کوسن 2007ء میں دنیا کی 500 بااثرمسلم شخصیات میں شامل کیا گیا جبکہ سن 2014ء میں انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

متعلقہ خبریں