جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

معروف شاعر و مزاح نگار پطرس بخاری کی 61 ویں برسی

پطرس بخاری

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے اسپیچ رائٹر اور معروف شاعر و مزاح نگار پطرس بخاری کی 61 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں جنم لینے والے سید احمد شاہ کو اہل اردو ادب پطرس بخاری کے نام سے جانتے ہیں۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا، اسی زمانے میں انہوں نے پطرس کے قلمی نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھنے کا آغاز کیا۔ ان کے مضامین کا مجموعہ پطرس کے مضامین کے نام سے شائع ہوا اور یہ کتاب اردو ادب کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

1936 میں جب آل انڈیا ریڈیو قائم ہوا تو وہ اس ادارے سے بحیثیت نائب کنٹرولر وابستہ ہوئے۔ 1939 میں اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بنے اور 1945 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے قدیم تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بنے۔

یہ بھی پڑھیں: امجد صابری کو برطانوی راک میوزک بینڈ کا خراج عقیدت

1950 میں انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ مقرر کیا گیا۔ 1952 میں انہیں سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی اور ایک ماہ تک اس ادارے کی صدارت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

پطرس نے 5 دسمبر 1958 کو نیویارک میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی وفات کے 44 برس بعد 14 اگست 2003 کو انہیں ہلال امتیاز کا اعزاز عطا کیا گيا۔

مضامين پطرس کے نام سے انہوں نے صرف ايک کتاب ہی لکھی جسے بلاشبہ اردو ادب ميں کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے ظرافت سے بھر پورمضامین آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔

متعلقہ خبریں