جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

تین کشمیریوں کی شہادت : مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال، وادی ویران

کشمیر میں مکمل

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں تین بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر مکمل ہڑتال کردی گئی۔

بھارتی افواج کی نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑؑتال کی گئی، اس دوران مقبوضہ وادی میں تمام مارکیٹیں اور بازار بند رہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے ہڑتال کی کال دی تھی۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم جدوجہد آزادی کو دبا نہیں سکتے۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے کریک ڈاؤن اور کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں بھارتی قابض افواج نے 35 کشمیریوں کو شہید کیا۔

یہ بھی پڑھیں : دو ماہ میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں 35 کشمیریوں کا قتل، پاکستان کی مذمت

انہوں نے کہا کہ سری نگر میں 24 نومبر کو جعلی مقابلے میں تین کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ بھارتی قابض افواج کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ بھارتی قابض افواج کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ثبوت فراہم کیئے۔

دفتر خارجہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ مقبوضہ علاقے میں بگڑتی ہوئی صورتحال خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

اس معاملے پر حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے جاری بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج نے نوجوانوں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، بھارتی فوج جہاں چاہتی ہے فائرنگ سے نوجوانوں کو شہید کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بھارتی مظالم پر خاموشی توڑنا ہو گی۔

خیال رہے کہ بھارتی ظالم افواج نے سرینگر کے رام باغ علاقہ میں سرچ آپریشن کے بہانے مزید تین کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ یہ نہیں بھولے کہ 21 اپریل 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے قرارداد 47 منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس کے باشندے کریں گے۔

متعلقہ خبریں