جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

جمعیت علمائے اسلام کا دھرنا آٹھویں روز بھی جاری، مولانا ڈٹ گئے

آزادی مارچ آٹھویں روز

اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ آٹھویں روز میں داخل ہوگیا۔ اسلام آباد میں بڑھتی سردی شرکاء کی مشکلات بڑھانے لگی۔ مظاہرین نے ایک بار پھر پنڈال کے اطراف میں خیمے لگادیئے۔

مذاکراتی کمیٹیوں کی تابڑ توڑ ملاقاتیں اور بیک ڈور آنیاں جانیاں بھی کام نہ کرسکیں۔ جمعیت علمائے اسلام کا دھرنا آٹھویں روز بھی جاری ہے۔

اسلام آباد میں بڑھتی سردی دھرنے کے شرکاء کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔ موسمی سختیوں کو جھیلتے مظاہرین قائدین کے اگلے لائحہ عمل کے منتظر ہیں۔

مطالبات منظور نہ ہونے پر مولانا فضل الرحمان بھی ڈٹ گئے ہیں۔ حتمی فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں پلان بی کا بھی عندیہ دے دیا۔ پلان بی میں شاہراہوں کی بندش اور صدر کیخلاف مواخذے کی تحریک جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ : مولانا فضل الرحمان بڑی یقین دہانی اور گارنٹی کے منتظر

چوہدری پرویز الہی کے بھی مولانا فضل الرحمان کو رام کرنے کے جتن جاری ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی آج پھر سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کرکے انہیں منانے کی کوشش کریں گے۔ سیاسی پنڈت آج کی بیٹھک کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی حلقوں، عوام اور دھرنے کے شرکاء کے ذہنوں میں سوالات بڑھنے لگے ہیں۔ کیا پرویز الٰہیٰ مولانا فضل الرحمان کو منا پائیں گے؟ کیا حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی دھرنے کی ڈولتی نیا کو کسی پار لگا پائیں گے؟ کیا حکومت مولانا کے چند مطالبات مان کر انہیں روانہ کرے گی؟ کیا مولانا وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹیں گے؟ کیا دھرنے کے شرکاء اسی طرح ٹھٹھرتی سردی میں قیادت کے حکم کا انتظار کریں گے؟ کیا مولانا اپنے کارکنوں کی حالت دیکھتے ہوئے بیک اسٹیپ ہوجائیں گے؟

ایس کئی کیا، کیوں اور کیسے کے جوابات صرف وقت ہی دے گا۔ فی الحال مولانا فضل الرحمان کسی لالی پاپ پر رضامند ہونے کو تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں