جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ہماری خارجہ پالیسی حماقتوں کا مجموعہ ہے : مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان

پشاور : مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان، ایران اور سعودیہ عرب میں صلح کرانے گئے، اب ترکی اور ملیشیاء کو بھی ناراض کردیا۔ ہماری خارجہ پالیسی حماقتوں کا مجموعہ ہے۔

پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستانی میں بحران پیدا کیا جا رہا ہے۔ بحران کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ 19 ویں اور 20 صدی مغرب کی تھی، 21ویں صدی ہماری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ون بلٹ ون روڈ شروع کیا اور سی پیک اس کا پہلا قدم ہے جو پاکستان سے گزرتا ہے۔ جس نے بھی اس پر کام کیا ان کے خلاف پانامہ اور کرپشن کیس کی شکل میں سازش کی گئی۔ نیب کو متحرک کیا گیا۔ عمران خان اس ایجنڈے کے لئے بھیجا گیا تاکہ چین کا راستہ روکا جائے۔ معاشی بحران پیدا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا کہ فاٹا میں ریفرنڈم کروایا جائے۔ کہا گیا کہ دس سال تک ہر سال سو ارب دیں گے، ابھی تک ایک پیسہ نہیں دیا گیا۔ ایک حوالدار کو ایس پی کے رینک دئیے گئے۔ فاٹا کے عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا۔

سربراہ جمعیت نے کہا کہ کشمیر پر خارجہ پالیسی کہاں ہے، ایک تقریر تک ہماری خارجہ پالیسی ہے؟ اس تقریر کے بعد جن ممالک نے ہمیں ووٹ دینا تھا انہوں نے بھی نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے احتجاج نے حکمرانوں کی اکڑ ختم کردی ہے، ہم فتح کے قریب ہیں: مولانا فضل الرحمان

وزیر اعظم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا کہ میں ایران اور سعودی عرب میں صلح کراتا ہوں اور محمد بن سلمان کے جہاز میں بیٹھ کر گئے۔ اب سعودی عرب بھی ناراض ہے اور ملیشیا اور ترکی کو بھی ناراض کر دیا۔ ہماری خارجہ پالیسی حماقتوں کا مجموعہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشرف کے کیس میں فیصلہ آگیا اور ایک ہنگامہ کھڑا کردیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے، کسی پنچائیت نے نہیں۔ صرف سیاستدانوں کو ہی نہیں اداروں کو بھی بیان دینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ بہت ہی نازک حالات ہیں، پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس سے متعلق آپ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔  کہتے ہیں کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں۔ ہم قومی دھارے میں ہیں آپ قومی دھارے میں نہیں ہو۔ ہمارا ملک ہمارا ہونا چاہیے، کسی غیر ملکی ایجنٹ کا نہیں۔ ایک برطانوی شہری ہمارے ملک میں گورنر ہے۔

متعلقہ خبریں