جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اپوزیشن، حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے، خود اپنا ہی لے ڈوبے : مولانا فضل الرحمن

حکمرانوں کا سفینہ

لاہور : مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں سے جان چھڑوانا قومی فریضہ بن چکا ہے، ناجائز حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے تھے، لیکن اپوزیشن والے خود اپنا ہی سفینہ لے ڈوبے۔

لاہور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا ڈیفنس لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات دینیہ کے رہنمائوں سے ملاقات ہوئی، اب تک حکومت کے ساتھ مدارس کے متعلق مذاکرات ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مدارس پر کچھ معاہدات بھی ہوئے اس پر مشاورت کی گئی، اس بات پر اتفاق ہے کہ مدارس کی آزادی کو برقرار رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ہماری خارجہ پالیسی حماقتوں کا مجموعہ ہے : مولانا فضل الرحمان

ان کا کہنا تھا کہ کبھی کہتے دینی مدارس کی اصلاحات کبھی قومی دھارے میں لانے کی باتیں، منفی رحجان پیدا کرتے ہیں۔ دینی مدارس کی کمزور جڑیں نہیں، مدارس کی آزادی پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، علوم کی ترویج کے لئے ہر مدارس کو قانونی حیثیت حاصل ہے، ہر روز اسے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

سربراہ جمعیت علماء اسلام نے کہا کہ وزیر اعظم کو ووٹ دینے پر کہوں گا کہ ایک بیانیہ ہوتا ہے، ہمارا مسئلہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا نہیں، اس پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ حکومت نے خود عدالت میں سمریاں بھیج کر اس معاملے کو پیچیدہ بنایا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے قانون سازی میں حصہ نہ لیا، ناجائز اسمبلی اور نااہل ہونے کے حوالے سے اپنے بیانیہ کو ترویج دی۔ اس قانون سازی میں حصہ نہ بنے۔

سکون قبر میں ہے تو کیا بائیس کروڑ عوام کو قبر میں ڈال دیں؟ رانا ثناء اللہ

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سے فون پر بات کی، پیپلزپارٹئ سے بھی بات ہوئی، ن لیگ نے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا، پیپلزپارٹی نے ترامیم کی بات کی، لیکن پھر وہ بھی واپس لے لیں، اگر ووٹ دینا تو مندرجات کو سامنے رکھیں۔

جے یو آئی رہنماء نے کہا کہ قوم اس وقت اس پوزیشن میں ہے، اسے قبر میں اتار دیا گیا ہے، یہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں، حکمرانوں سے جان چھڑوانا قومی فریضہ بن چکا ہے۔ نااہل حکمران کیوں قوم پر حکومت کریں؟  آزادی مارچ میں عوام کا فیصلہ سامنے آ گیا تھا، دس لاکھ مارچ میں شریک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس آمریت کو بے نقاب کرنا ہوگا، ناجائز حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے تھے، لیکن اپوزیشن والے خود اپنا ہی سفینہ لے ڈوبے، جماعت کے ساتھ رابطے میں ہوں، نئی تحریک کا آغاز پنجاب سے کریں گے۔

متعلقہ خبریں