جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے : وزیر اعظم

آرٹیکل 6 کے تحت

اسلام آباد : وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے، آزادی مارچ کے ذریعے حکومت گرانے کی سازش کی گئی، فوج سے وہی ڈرتے ہیں جو کرپشن کرتے ہیں، میں کرپٹ ہوں نہ کسی کا ڈر ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی تجویز دی ہے۔

عمران خان کے مطابق فضل الرحمان نے خود کہا کہ وہ کسی ایجنڈے کے تحت حکومت گرانے آئے تھے اور انہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا۔ جمہوری حکومت کیخلاف سازش پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ معلوم ہونا چاہئے کہ فضل الرحمان کو کس نے یقین دہانی کرائی۔ آئندہ ہفتے میں فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا جائے گا۔

اتحادیوں اور پارٹی میں اختلافات کے حوالے سے کئے گئے سوالوں کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں، جس میں گروپ بندی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں : فواد چوہدری کا مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ درج کرانے کا مطالبہ

انہوں نے کہا حکومت کہیں نہیں جارہی اس حوالے سے اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ اتحادیوں کے تحفظات دور کردیئے گئے ہیں۔

فوج کی حمایت حاصل ہونے سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فوج کو پتہ ہے میں محنت کررہا ہوں کرپشن نہیں اور فوج اس لئے میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپشن نہیں کررہا۔ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ فوج سے وہی ڈرتے ہیں جو کرپشن کرتے ہیں، میں کرپٹ ہوں نہ کسی کا ڈر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو شریف خاندان اور زرداری کی سازشوں کا پتہ ہے۔ دونوں اسی لئے فوج کیخلاف سازش کررہے ہیں۔ ملٹری انٹیلی جنس کو سب معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ بنانے کا میرا فیصلہ تھا لیکن عدالت نے اسٹے دے دیا تو میں کیا کرسکتا ہوں؟

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے کچھ معاملات کو ابھی منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج تیل اور گیس سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔ فیصلہ کرلیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مسابقتی کمیشن بالکل کام نہیں کررہا۔

عمران خان نے کہا کہ بطور وزیراعظم دنیا میں سب سے کم تنخواہ ان کی ہے۔ میڈیا ان کی ذات پر حملہ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں جب ملک پر حملہ کرتا ہے تو مسائل ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں