جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

چیئرمین سینیٹ، بلوچستان حکومت،گورنر شپ کے عہدے کی بھی پیشکش ہوئی، فضل الرحمٰن

ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں چیئرمین سینیٹ اور گورنر کے عہدے سمیت بلوچستان حکومت کی پیشکش بھی ہوچکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰں نے کہا کہ ’مجھے چیئرمین سینیٹ اور گورنر کے عہدے سمیت دیگر پرکشش مراعات کی پیشکش کی گئیں لیکن ہم نے سب چیزوں کو حقیر سمجھا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ کسی منصب کے لیے نہیں‘۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ’یہ ایک جماعت کا مظاہرہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مظاہرہ تھا‘۔

قوم جاننا چاہتی ہے پی ٹی آئی کو بھارت سمیت کس کس نے فنڈ دیا،احسن اقبال

اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہمارا ہدف صرف شاہراہیں بند کرنا نہیں ہے، ہم اس سے بھی آگے بڑھیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ ہم اس ناجائز حکومت کا خاتمہ نہ کر دیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے ملک بھر میں موجود کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جو دھرنے کا حصہ بنے اور موسم کی مشکلات برداشت کیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے چاول کی پیداوار 40 اور کپاس کی پیدوار 50 فیصد کم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت جمود کا شکار ہے اور حکومت ٹماٹر فی کلو 300 روپے مل رہا ہے تو وہ کہتے ہیں 17 روپے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ تحریک ملک کے بازاروں تک جائے گی، ہر ضلع میں مظاہرے شروع ہوں گے.

۔تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا ایک سال میں ملک کی معیشت تباہ ہو گئی، اگر ٹماٹر 300 روپے ملتا ہے تو کہتے ہیں کہ 17 روپے کلو ہے، یہ کیا جانیں ملک کا غریب کس کرب سے زندگی گزار رہا ہے۔

متعلقہ خبریں