مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ آئے تو یہ خود کشی ہوگی : وزیر داخلہ

وزیر داخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ کرنے نہیں آئیں گے، اگر آئے تو یہ خود کشی ہوگی۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سفارتکاروں کیلئے محفوظ ملک قراردیا جا چکا ہے۔ ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

پولیس ریفارمز سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ 9 سال بعد پولیس کے محکمے میں بھرتیاں کی جار ہی ہیں، اسلام آباد پولیس میں 1260 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ہتھکنڈے استعمال کرلیں، ڈی چوک آنے سے نہیں روک سکتے : مولانا عبدالغفور حیدری

مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے اعجاز شاہ نے نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں۔ مودی حکومت کشمیر کی صورتحال پر شدید دباؤ میں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ کرنے نہیں آئیں گے، کیونکہ 27 اکتوبر بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی تاریخ ہے۔ اگر آئے تو یہ خود کشی ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب! مدارس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی، بلکہ انہیں بہتر بنایا جا رہا ہے۔

مہنگائی کے سوال پر اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ یہ سوال ان سے پوچھیں جنہوں نے پچھلے 70 سال ملک پر حکمرانی کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسلام آباد پولیس کے سہولت سینٹر میں وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دفعہ 144 نافذ ہے، مولانا 27 اکتوبر کو نہیں آئیں گے۔ کسی کے کہنے پر کوئی ماں کا لال اس حکومت کو نہیں گرا سکتا ہے۔

مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ مدارس کے نصاب میں وہ کتابیں شامل کی ہیں جنہیں پڑھ کر مدرسوں کے طلبہ ڈاکٹر اور انجینئر بنیں گے۔ مدارس کے طلبہ صرف امام نہیں، بلکہ عام افراد کی طرح ڈاکٹر اور انجینئر بن سکیں گے اور دیگر شعبے اختیار کر سکیں گے۔